4

کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات پر سنگین سوالات

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** کراچی کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات کے حوالے سے تشویشناک صورتحال سامنے آئی ہے، جہاں بعض اسپتالوں میں **فائر الارم سسٹم کی عدم موجودگی، غیر فعال فائر ایکسٹنگوشرز، فائر ڈرلز کے فقدان اور ہنگامی اخراج کے مناسب راستوں** سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق **کے ایم سی کے عباسی شہید اسپتال** میں اس وقت صرف **13 فائر ایکسٹنگوشرز** موجود ہیں۔ اسپتال کے عملے کو فائر ڈرل اور فائر سیفٹی سے متعلق باقاعدہ تربیت بھی فراہم نہیں کی گئی، جبکہ اسپتال میں **فائر الارم سسٹم نصب نہ ہونے** اور ہنگامی صورتحال میں انخلا کے لیے مخصوص راستہ موجود نہ ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

**جناح اسپتال** میں اگرچہ مختلف وارڈز میں فائر ایکسٹنگوشرز موجود ہیں، تاہم متعدد ایکسٹنگوشرز کے **غیر فعال ہونے** کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جناح اسپتال میں آخری فائر ڈرل **2017** میں ہوئی تھی، جبکہ وہاں بھی فائر الارم سسٹم نصب نہیں ہے۔

دوسری جانب **سول اسپتال** میں تقریباً **180 فائر ایکسٹنگوشرز** موجود ہیں اور اسپتال کے مختلف وارڈز میں انہیں نصب کیا گیا ہے، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق یہاں بھی فائر سیفٹی کے انتظامات کو مکمل طور پر مثالی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

### انسانی حقوق کا پہلو

HRNW کے مطابق اسپتالوں میں زیرِ علاج مریض، بزرگ، بچے، معذور افراد اور طبی عملہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں خصوصی طور پر خطرے سے دوچار ہوسکتے ہیں۔ **محفوظ ماحول میں علاج اور زندگی کے تحفظ کا حق** بنیادی انسانی حقوق کا حصہ ہے۔

سرکاری اسپتالوں میں فائر الارم، قابلِ استعمال فائر ایکسٹنگوشرز، ہنگامی اخراج کے راستے اور عملے کی باقاعدہ فائر سیفٹی تربیت محض انتظامی ضرورت نہیں بلکہ **زندگی کے تحفظ کی بنیادی ذمہ داری** ہے۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ تمام بڑے سرکاری اسپتالوں کا فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے اور خامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر دور کیا جائے۔

### Support HRNW

شہریوں کے حقِ زندگی، محفوظ طبی سہولیات، انسانی حقوق اور ذمہ دارانہ صحافت کے فروغ کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں۔

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

### Disclaimer

یہ خبر دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ مختلف اسپتالوں میں فائر سیفٹی انتظامات سے متعلق اعداد و شمار اور دعووں کی حتمی تصدیق متعلقہ حکام اور اداروں کے ریکارڈ سے کی جانی چاہیے۔ HRNW تمام متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں