4

6 ستمبر کو شاہراہِ قائدین پر پی ٹی آئی کا بڑا جلسہ ہوگا، پمز میں 14 نومولود بچوں کی شہادت غریب دشمن نظام کی ناکامی ہے، سلمان اکرم راجہ

6 ستمبر کو شاہراہِ قائدین پر پی ٹی آئی کا بڑا جلسہ ہوگا، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی 3 ستمبر کو مرکزی قیادت کے ہمراہ سندھ پہنچیں گے، سلمان اکرم راجہ

پمز میں 14 نومولود بچوں کی شہادت غریب دشمن نظام کی ناکامی ہے، ہمیں پورا نظام درست کرنا ہوگا، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ

8 فروری کو کروڑوں پاکستانیوں نے عمران خان کو ووٹ دیا، عوام کا مینڈیٹ چھین لیا گیا، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ

سندھ میں آٹا 180 روپے کلو، ولیکا اسپتال میں 96 بچوں کا ایڈز سے متاثر ہونا اور میر رضا قتل کیس تشویشناک ہے، حلیم عادل شیخ

کراچی: (پریس ریلیز تاریخ 27 اگست 2026) پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے انصاف ہاؤس کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں غریب اور امیر کے لیے دو الگ نظام قائم ہیں، پمز میں نومولود بچوں کی اموات اسی ناکام نظام کا نتیجہ ہیں، جبکہ عوام کے ووٹ اور بنیادی حقوق کا تحفظ کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا۔ انہوں کہا 3 ستمبر سے 6 ستمبر کو وزیر اعلیٰ خیبرپختون خواہ مرکزی وقائدین کے ہمراہ سندھ کا دورہ کریں گے 6 ستمبر کو کراچی میں جلسہ ہوگا۔

پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ، صدر کراچی ڈویژن فہیم خان، راجہ اظہر، ارسلان خالد، سندھ اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر شبیر قریشی، ایڈووکیٹ شجاعت علی، منصور احمد شیخ، پی ٹی آئی سندھ کے ترجمان محمد علی بلوچ، فوزیہ صدیقی، صیم خان، مبشر حسن زئی، رانا وسیم، ، خان زمان ایڈووکیٹ، نوید صدیقی، رانا اعظم، راؤ اعظم، آغا ارسلان، شازیہ عمران سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔

بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج ہمارے دل غم میں ڈوبے ہوئے ہیں، پمز اسپتال میں 14 نومولود بچوں کی شہادت انتہائی افسوسناک سانحہ ہے۔ جو ذمہ دار افراد ہیں ان پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی ہے، سوال یہ ہے کہ آخر یہ ملک کہاں جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں ہونے والا سانحہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے۔ کہا گیا کہ نظام ناکام ہوگیا، سوال یہ ہے کہ آخر کون سا نظام ناکام ہوا؟

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ہمیں صرف یہ نہیں دیکھنا کہ نظام کہاں ناکام ہوا بلکہ اصل نظام کو درست کرنا ہوگا جو غریب کو سپورٹ کرتا ہے۔ پورے ملک میں غریب اور امیر کے لیے دو نظام مسلط ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جہاں امیر کے بچے جاتے ہیں وہاں غریب کا بچہ نہیں جاسکتا۔ اس ملک میں غریب کی زندگی تنگ کردی گئی ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 1980 کی دہائی تک سرکاری اسکولوں کا نظام بہتر تھا، ہم سب سرکاری اسکولوں میں پڑھ کر بڑے ہوئے اور بڑے بڑے لوگ انہی اسکولوں سے نکلے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پوری قوم کے امیر اور غریب بچے ایک ہی اسکولوں میں جاتے تھے اور سرکاری اسکول تعلیم دیتے تھے۔ بعد میں امیر کے بچوں کے لیے مہنگے انگلش میڈیم اسکول بنائے گئے جہاں غریب کا بچہ بھاری فیسوں کے باعث نہیں پڑھ سکتا۔

انہوں نے کہا کہ آج پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ بچے اسکول نہیں جاتے۔ ہم ان بچوں کی صلاحیت ضائع کررہے ہیں۔ غریب کے بچوں کو وہ تعلیم نہیں مل رہی جو انہیں ملنی چاہیے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ پاکستان میں ایسی طبقاتی تفریق پیدا کردی گئی ہے جو بہت کم ممالک میں ہے، حتیٰ کہ بنگلادیش میں بھی اس نوعیت کی تفریق نہیں۔

انہوں نے کہا کہ پمز میں پیش آنے والا واقعہ اسی نظام کی ناکامی ہے۔ بنیادی صحت یونٹ میں امیر کا بچہ نہیں جاتا، غریب ہی وہاں جاتا ہے، اس لیے صحت کا نظام غریب عوام کے لیے بہتر ہونا چاہیے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ملک کے تقریباً 40 فیصد بچے عمر کے لحاظ سے ذہنی نشوونما میں پیچھے ہیں اور ایسے بچے پوری زندگی پیچھے رہتے ہیں۔ یہ ملک کے مستقبل کی صلاحیت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کا پیغام غریب عوام کی بات ہے، وہ امیر اور غریب کے بچوں کو یکساں تعلیم اور مواقع دینے کی بات کرتے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آج آواز اٹھانے والے کو اٹھا لیا جاتا ہے۔ اگر صحافی سچ بولے تو اسے ادارے سے فارغ کردیا جاتا ہے۔ جو صحافی حق کی آواز اٹھاتے تھے وہ آج بے روزگار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو رکن اسمبلی حق کی بات کرتا ہے اسے بھی نکال دیا جاتا ہے۔ اس نظام سے فائدہ اٹھانے والوں کو شرمسار ہونا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ روزِ محشر وہ کس چہرے کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے لاہور میں میلاد النبی ﷺ کے پروگرام میں پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس جبر اور ظلم کو دیکھ رہے ہیں۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ غریب اپنی آواز ووٹ سے اٹھاتا ہے لیکن غریب کا ووٹ چوری کیا گیا۔ 8 فروری کو کروڑوں پاکستانیوں نے عمران خان کو ووٹ دیا اور عوام نے اپنے مستقبل کو سنوارنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن ماضی کی طرح عوام کی آواز کو کچل دیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ عوام جس پر اعتبار کرتے ہیں اسے اقتدار میں نہیں لایا گیا۔ کراچی میں 22 میں سے 21 قومی اسمبلی کی نشستوں پر پی ٹی آئی کھے امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ لاہور سمیت ملک بھر میں بھی پی ٹی آئی کی جیتی ہوئی نشستیں چھینی گئیں۔انہوں نے انتخابی دھاندلی سے متعلق رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں بدترین دھاندلی ہوئی اور عوام کے مسترد کردہ لوگوں کو مسلط کیا گیا۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 1980 کی دہائی میں شوگر ملیں کس نے لگائیں؟ کپاس کی جگہ گنے کی کاشت کو فروغ دیا گیا اور سندھ و پنجاب کے کاشتکاروں کو تباہ کیا گیا آج پاکستان کا کاشکار خوشحال نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کبھی بھی جمہوریت کو پنپنے نہیں دیا گیا۔ جو لوگ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کرنے کی بات کرتے ہیں، ان سے سوال ہے کہ صوبے بنا کر بڑی آواز کو توڑنا مسئلے کا حل ہے؟ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد ایک چھوٹا شہر ہے لیکن وہاں بھی اسپتال تباہ اور تعلیم کا نظام خراب ہے۔

بیرسٹر سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ صوبے بنانا یا صوبوں کو چھوٹا کرنا عوام کا فیصلہ ہونا چاہیے۔ یہ فیصلہ وہ اسمبلی کرسکتی ہے جو عوام کے حقیقی مینڈیٹ کی نمائندہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں لوکل گورنمنٹ نظام کو مضبوط کیا جائے اور اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں۔ کراچی میں میئر کیسے بنا، بچہ بچہ جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسی طرح عوام کا اختیار چھینا جاتا رہا تو کوئی نظام نہیں چل سکتا۔ لوکل گورنمنٹ کا ووٹ بھی چوری کیا جاتا ہے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 27 ستمبر کو یومِ جمہوریت منایا جائے گا۔ ہم پر واجب ہے کہ روز اپنی آواز بلند کریں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر بچے کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ یہ ایک دن کا معرکہ نہیں بلکہ پوری قوم کے مستقبل کا سوال ہے۔ قوم کو اپنے وجود کے اظہار کے لیے نکلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ہراول دستہ فرنٹ پر ہے، عوام کو ساتھ نکلنا ہوگا۔ ہمیں اس آواز کو قوم کی آواز بنانا ہے۔ 27 ستمبر کو پوری قوم باہر نکلے گی۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ 25 کروڑ عوام اپنے گھروں سے نکل کر گلیوں میں آجائیں تو یہ نظام پاش پاش ہوجائے گا۔ ہم پاکستانی عوام کی جنگ کرتے رہیں گے۔

سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جھوٹے الیکشن کے ذریعے جھوٹی حکومت قائم کی جارہی ہے، آزاد کشمیر کی دھرتی پر خون بہایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حالات خراب ہیں جبکہ خیبرپختونخوا کے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں لوگ گھروں سے نکل نہیں سکتے۔ ہمیں آگے بڑھ کر کامیابی حاصل کرنا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جس مقصد کے لیے پاکستان بنا تھا وہ ابھی پورا نہیں ہوا۔

پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی مرکزی قیادت کے ہمراہ 3 ستمبر کو سندھ میں داخل ہوں گے۔ صبح 11 بجے کموں شہید بارڈر پر بھرپور استقبال کیا جائے گا 4 ستمبر کو جیکب آباد سے نوشہرو فیروز، 5 ستمبر کو نوشہرو فیروز سے حیدرآباد اور 6 ستمبر کو کراچی پہنچیں گے۔ اس دوران مختلف شہروں میں بڑے بڑے اسٹریٹ موومنٹ کے حوالے سے اجتماعات ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ 6 ستمبر کو شاہراہِ قائدین پر بڑا جلسہ ہوگا۔ سندھ کے مختلف شہروں کا دورہ کیا جائے گا اور سندھ کی دھرتی اپنے مہمانوں کا بھرپور استقبال کرے گی۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 6 ستمبر یومِ دفاع ہے، ہم ملک کے دفاع اور پاکستان کے عوام کی بات کریں گے۔ امید ہے اجازت ملے گی، اجازت نہ بھی ملی تو کراچی میں جلسہ ہوگا۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پمز میں افسوسناک صورتحال ہے۔ سندھ کے صحت کے نظام کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے ولیکا اسپتال میں 96 بچے غلط انجکشن کے باعث ایڈز کا شکار ہوئے جبکہ لاڑکانہ رتو ڈیرو میں بھی ایڈز پھیلا ہوا ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں 60 ہزار افراد منہ کے کینسر میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ حکومت صحت کے شعبے پر توجہ دے اور عوام کو بنیادی طبی سہولیات فراہم کرے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ میں آٹا 180 روپے فی کلو مل رہا ہے، مہنگا آٹا عوام کی مشکلات اور مہنگائی میں اضافہ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوچکی ہے اور غریب خاندان دو وقت کی روٹی کے لیے پریشان ہیں۔
حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کراچی کے نوجوان میر رضا علی کو قتل ہوئے چار ہفتے سے زائد ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک ملزمان گرفتار نہیں ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ میر رضا کیس میں پردہ داری کی جارہی ہے۔ جو خاندان چاہتا ہے اس پر عمل ہونا چاہیے اور شفاف تحقیقات کے ذریعے ملزمان کو گرفتار کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بتایا جارہا ہے کہ اس ظلم و جبر کے پیچھے کسی بااثر شخص کا ہاتھ ہے، حکومت اصل حقائق سامنے لائے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کراچی کی سڑکیں تباہ ہیں، شہر کو دنیا کا دوسرا آلودہ شہر بنا دیا گیا ہے۔ یونیورسٹی روڈ کئی سال سے تباہ حال ہے لیکن اسے تعمیر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم نورا کشتی کا کھیل کھیل رہی ہیں۔ ایک جماعت سندھ کارڈ اور دوسری اردو کارڈ کھیلتی ہے، ہمارے پاس پاکستان کارڈ ہے۔ حلیم عادل شیخ نے کہا کہ 8 فروری کو عوام نے ان لوگوں کو مسترد کیا تھا، انہیں عوام کی بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں۔

صدر پی ٹی آئی کراچی ڈویژن فہیم خان نے کہا کہ اسلام آباد کا سانحہ انتہائی افسوسناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز انہوں نے اپنی آنکھوں سے متاثرہ والدین کی چیخیں اور آنسو دیکھے، کئی والدین کو بڑی مشکل سے اولاد ملی تھی اور وہ بھی ان سے چھن گئی۔ فہیم خان نے کہا کہ اگر وفاقی وزیر صحت میں رتی برابر بھی اخلاقی ذمہ داری ہوتی تو وہ فوری استعفیٰ دیتے۔ انہوں نے مصطفیٰ کمال سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہا کہ یہی پمز وہ اسپتال ہے جہاں حکومت بضد ہے کہ عمران خان کو لایا جائے۔

فہیم خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی 3 ستمبر کو سندھ آرہے ہیں اور 6 ستمبر کو کراچی پہنچیں گے۔ پی ٹی آئی نے قائداعظم کے مزار کے قریب جلسے کی اجازت کی درخواست دی ہے، اب دیکھنا ہے کہ جمہوریت کے دعویدار اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیکھا جائے گا کہ بلاول بھٹو اور پیپلز پارٹی والے واقعی جمہوری لوگ ہیں یا کسی اور کے کہنے پر چلتے ہیں۔ فہیم خان نے کہا کہ عوامی حقوق، جمہوریت، شفاف انتخابات، مضبوط بلدیاتی نظام، صحت، تعلیم، امن و امان اور مہنگائی کے خاتمے کے لیے جدوجہد جاری رہے گی اور 6 ستمبر کا کراچی جلسہ عوام کی آواز بنے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں