**ٹورنٹو (ایچ آراین ڈبلیو)**، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی 46 سالہ ایئرہوسٹس حنا ثانی کو ٹورنٹو پیئرسن انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے کینیڈین بارڈر سروسز ایجنسی (CBSA) کے دو جعلی پورٹ اسٹیمپس اسمگل کرنے کے مقدمے میں قصوروار قرار دے دیا گیا۔
حنا ثانی کو 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب کینیڈین حکام نے ان کے سامان سے CBSA کے دو جعلی پورٹ اسٹیمپس برآمد کیے۔ یہ اسٹیمپس کینیڈا میں کسی شخص کے قانونی داخلے کی تصدیق کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
عدالت میں حنا ثانی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ یہ اسٹیمپس ایک جاننے والے شخص کے لیے کینیڈا لے کر جا رہی تھیں، تاہم عدالت نے انہیں جعلی اشیا اسمگل کرنے کا قصوروار قرار دے دیا۔
مقدمے نے اس حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیا ہے کہ جعلی سرکاری اسٹیمپس کس مقصد کے لیے تیار کیے گئے تھے اور انہیں کینیڈا میں امیگریشن یا داخلے سے متعلق کس ممکنہ جعل سازی کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پی آئی اے کے عملے کے متعدد ارکان کے کینیڈا پہنچنے کے بعد لاپتہ ہونے کی اطلاعات بھی ماضی میں سامنے آتی رہی ہیں، جس کے باعث ایئرلائن کے عملے سے متعلق امیگریشن اور سیکیورٹی کے معاملات ایک مرتبہ پھر زیرِ بحث آگئے ہیں۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، انصاف اور اہم عالمی و قومی خبروں کی آزادانہ رپورٹنگ جاری رکھنے کے لیے HRNW کو سپورٹ کریں: [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**Disclaimer:** یہ خبر دستیاب معلومات اور متعلقہ ذرائع کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ مقدمے سے متعلق حتمی قانونی نتائج اور دیگر تفصیلات متعلقہ عدالت یا حکام کے فیصلوں سے مشروط ہیں۔


