کراچی (ایچآراین ڈبلیو) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان کا سندھ اسمبلی کے باہر احتجاجی مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کے منتخب عوامی نمائندے اپنا مقدمہ کے کر سندھ اسمبلی کے باہر موجود ہیں۔
17 سال سے بر سر اقتدار پیپلز پارٹی کی حکومت اور اتحادی جماعت ایم کیو ایم نے کراچی کو تباہ و برباد کردیا ہے۔ اسمبلی میں بیٹھنے والے وڈیرے اور جاگیردار شہر کراچی کا سودا کرتے رہے۔
شہر کراچی پر ہمیں فخر ہے جو پاکستان کا معاشی حب ہے۔ شہر کی صنعتیں چلتی ہیں تو پورے پاکستان کی معیشت چلتی ہے۔ کراچی کے عوام کا کیا قصور ہے جس پر فارم 47 کے ذریعے جعلی لوگوں کو عوام پر مسلط کردیا ہے۔
پیپلز پارٹی جمہوریت کی بات کرتی ہے لیکن خود پارٹی میں جمہوریت نہیں ہے۔ اٹھارویں ترمیم کے تحت اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہیں کیے گئے۔ یہی پیپلز پارٹی ہے کہ جس کی وجہ سے ملک دولخت ہوگیا۔ 2007 اور 2008 میں آصف علی زرداری صدر اور ایم کیو ایم ان کی اتحادی تھی۔
وفاق میں اٹھارہویں ترمیم کی منظوری کے بعد خوشخبری سنائی گئی کہ اب مسائل حل ہوں گے۔ بدین کو صوبے کی طرف سے 20 ارب روپے دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی بدین کو 20 نہیں 30 ارب روپے دیں لیکن کراچی کو اس کا حصہ کیون نہیں دیا جاتا۔
جماعت اسلامی ان لوگوں کی طرح نہیں جو فائل پھینک کر بھاگ جاتے ہیں۔ جماعت اسلامی کے منتخب نمایندے اپنی مدد آپ کے تحت عوامی ریلیف کے کام کررہے ہیں۔ صوبائی حکومت کا 356 ارب روپے کا بجٹ ہے۔ صوبے کی بلدیات کو 160 ارب روپے دیے گئے جو پورے بجٹ کا 5 فیصد حصہ بنتا ہے۔
356 ارب روپے میں سے 34 ارب روپے کراچی کو دیے گئے۔ 34 ارب روپے میں سے بھی بڑی رقم براہ راست کے ایم سی کو دی جاتی ہے جس پر قابض مئیر ناگ بنے بیٹھے ہیں۔ کراچی میں کچرا اٹھانے کا کام وزیر اعلی سندھ نے اپنے ذمے لے لیا ہے ۔
جماعت اسلامی کی حق دو تحریک آگے بڑھ رہی ہے۔ جماعت اسلامی کے منتخب نمایندے سندھ اسمبلی کے باہر 29 دھرنے کو بھولے نہیں ہے۔ عید الاضحیٰ کے بعد بڑی تحریک چلائیں گے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ ٹاؤنز ویوسی کو ترقیاتی بجٹ جاری کیے جائیں۔
واٹر کارپوریشن کو ٹاؤنز کے ماتحت کیا جائے۔ پیپلز پارٹی جماعت اسلامی کو جانتی ہے ہم وزیر اعلی ہاؤس اور وزیر اعلی سندھ پر دھرنے کا بھی آپشن رکھتے ہیں۔ ملیر و شاہ فیصل میں 18 گھنٹے تک بجلی کی لوڈ شیڈنگ کی جارہی ہے۔
ملیر و شاہ فیصل کی خواتین مائیں بہنیں گھروں سے نکل کر سڑکوں پر احتجاج کرنے پرمجبور ہیں۔ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ گزشتہ 10 سال سے سندھ کے وزیر اعلی ہیں 10 سال میں کراچی کو لوٹ کھسوٹ کے سوا کچھ نہیں دیا۔
جماعت اسلامی کی مشاورت کا عمل جاری ہے۔ گلی ،محلے اور شہر کے اہم شاہراہوں پر احتجاج کریں گے اور عید کے بعد حقوق کراچی تحریک کو مزید تیز کیا جائے گا۔…


