4

20 اگست 1971: پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید کی لازوال قربانی

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو): 20 اگست 1971 کو صرف 20 سالہ پائلٹ آفیسر راشد منہاس تربیتی پرواز کے لیے طیارہ لے کر روانہ ہونے والے تھے کہ ان کے انسٹرکٹر فلائٹ لیفٹیننٹ مطیع الرحمٰن طیارے میں سوار ہوگئے اور اسے مبینہ طور پر بھارت کی جانب لے جانے کی کوشش کی۔

راشد منہاس نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے طیارے کا کنٹرول واپس حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ دستیاب تاریخی روایات کے مطابق جب انہیں اندازہ ہوا کہ طیارے کو پاکستانی حدود سے باہر جانے سے روکنے کا کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں رہا تو انہوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر طیارے کو پاکستانی حدود میں زمین سے ٹکرا دیا۔

اس واقعے میں پائلٹ آفیسر راشد منہاس شہید ہوگئے، تاہم انہوں نے طیارے کو دشمن کی جانب لے جانے سے روک دیا۔ ان کی قربانی اور جرأت کے اعتراف میں انہیں نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔

قومی و انسانی پہلو:
راشد منہاس کی داستان فرض شناسی، قربانی اور وطن سے وابستگی کی ایک نمایاں مثال کے طور پر یاد کی جاتی ہے۔ ان کی قربانی نئی نسل کے لیے ذمہ داری، حوصلے اور اپنے فرائض سے وفاداری کا پیغام رکھتی ہے۔

Support HRNW: انسانی حقوق، قومی تاریخ، عوامی شعور اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔

ڈس کلیمر: یہ خبر فراہم کردہ تاریخی معلومات اور معروف تاریخی روایات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ تاریخی واقعات کی تفصیلات مختلف سرکاری و تاریخی ریکارڈز میں قدرے مختلف انداز میں بیان ہوسکتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں