حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو)، تحریر: رانا تصدق حسین: حیدرآباد کسٹمز میں مبینہ بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور اہم عہدوں پر من پسند افسران کی تعیناتیوں سے متعلق سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جبکہ معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض حساس عہدوں پر تعیناتیوں کے حوالے سے کروڑوں روپے کی مبینہ مالی لین دین اور مخصوص افسران کو مبینہ طور پر فرنٹ مین کے طور پر استعمال کیے جانے کی شکایات گردش کر رہی ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ بعض افسران کو مسلسل اہم اور حساس ذمہ داریاں سونپے جانے سے ایک ایسا انتظامی حلقہ تشکیل پا گیا ہے جس کے باعث میرٹ، شفافیت اور ادارہ جاتی احتساب متاثر ہونے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
ذرائع کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ آیا حیدرآباد کسٹمز میں حساس عہدوں پر تعیناتیاں واقعی میرٹ اور انتظامی ضرورت کے تحت کی جارہی ہیں یا ان کے پسِ پردہ کسی قسم کے مفادات کارفرما ہیں۔
مبینہ مالی لین دین اور فرنٹ مین کلچر سے متعلق الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ تاہم معاملے کی سنگینی کے پیش نظر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ تعیناتیوں، مالی معاملات اور اختیارات کے استعمال کا شفاف آڈٹ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقائق سامنے آسکیں۔
انسانی حقوق اور ادارہ جاتی شفافیت کا پہلو:
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق سرکاری اداروں میں میرٹ، شفافیت اور احتساب نہ صرف اچھی حکمرانی بلکہ عوام کے اعتماد کے لیے بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اگر بدعنوانی یا اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات سامنے آئیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور ذمہ داری ثابت ہونے کی صورت میں قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
Support HRNW: انسانی حقوق، شفاف حکمرانی، قانون کی بالادستی، ادارہ جاتی احتساب اور عوامی مسائل سے متعلق آزاد و ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے Human Rights News Worldwide (HRNW) کو سپورٹ کریں۔
ڈس کلیمر: یہ خبر ذرائع سے منسوب الزامات اور فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ کروڑوں روپے کی مبینہ مالی لین دین، فرنٹ مین کلچر اور عہدوں کی غیر قانونی تقسیم کے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔ کسی فرد یا افسر کے خلاف الزام کو جرم ثابت ہونے تک حتمی حقیقت نہیں سمجھا جائے گا۔ متعلقہ کسٹمز حکام یا نامزد افراد کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی شامل کیا جائے گا۔


