**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین **ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی** نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کا قیام اب پاکستان کو بہتر انداز میں چلانے اور بچانے کے لیے ضروری ہوچکا ہے، جبکہ اس معاملے پر سیاسی جماعتوں کے درمیان **بامعنی مذاکرات اور مکالمہ** ہونا چاہیے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم نے مسلسل عملی اقدامات کیے ہیں اور طلبہ تنظیم سے جنم لینے والی تحریک نے مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس کو ایوانوں تک پہنچایا۔ ان کے مطابق یہی عمل ان کی جماعت کے لیے “جرم” بنا دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں ڈسٹرکٹس اور ڈویژنز بنائے گئے، تاہم نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر پیش رفت نہیں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے مطالبے اور تجویز سے دیگر سیاسی جماعتیں بھی اتفاق کرتی دکھائی دے رہی ہیں۔
خالد مقبول صدیقی نے سیاسی جماعتوں کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر **نئے صوبوں کے قیام پر مذاکرات** کریں۔ ان کے مطابق آئین میں صوبے بنانے کا طریقہ کار موجود ہے اور صوبوں کا قیام بذاتِ خود کوئی جرم نہیں، اصل بحث اس بات پر ہونی چاہیے کہ یہ عمل **آئینی طریقے سے کیسے مکمل کیا جائے**۔
انہوں نے **18ویں آئینی ترمیم** کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم اس عمل میں اس امید کے ساتھ شامل ہوئی تھی کہ اس کے ثمرات اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی صورت میں عوام تک پہنچیں گے۔ انہوں نے **آرٹیکل 140-A** کے نفاذ پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ اب پورے ملک میں مقامی حکومتوں کے اختیارات کی بات ہورہی ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا اطلاق ملک کی تمام یونین کونسلز پر ہوتا ہے اور اگر اس فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا گیا تو ایم کیو ایم **سپریم کورٹ سے رجوع** کرے گی۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ “سندھ کارڈ” استعمال کررہی ہے اور قوم پرست عناصر کو سامنے لارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کسی موروثی سیاسی خاندان یا اشرافیائی طبقے کی نمائندہ جماعت نہیں بلکہ عام لوگوں کی نمائندگی کرتی ہے۔
### انسانی حقوق اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کا پہلو
نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کا معاملہ شہریوں کے **سیاسی نمائندگی، مساوی حقوق، مقامی حکمرانی اور بنیادی سہولیات تک رسائی** سے براہِ راست جڑا ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی مؤثر ہونے کی صورت میں مقامی آبادی کو اپنے علاقوں کے فیصلوں میں زیادہ مؤثر کردار مل سکتا ہے۔
تاہم نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا عمل **آئین، قانون، عوامی مشاورت، جمہوری نمائندگی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق** کے اصولوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایسے حساس معاملات میں سیاسی اختلافات کو پُرامن مکالمے اور آئینی طریقہ کار کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی حمایت کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے بیان کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں، آئینی ترامیم، عدالتی فیصلوں اور دیگر معاملات سے متعلق بیان کردہ دعوے مقررہ فریق کے مؤقف کے طور پر پیش کیے گئے ہیں۔


