**پشاور (ایچ آراین ڈبلیو)** — خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کو **6.4 ارب روپے کی ادائیگی** کے معاملے پر سابق وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی شرط عائد کردی ہے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مطابق صوبے کے وفاق سے واجب الادا مالی معاملات موجود ہیں اور **آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبے کو واجب الادا رقوم میں یکطرفہ کٹوتی کا اختیار نہیں دیتا**۔
صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ وفاق کی جانب سے صوبے کے مالی حصے یا واجب الادا رقوم میں یکطرفہ طور پر کٹوتی آئینی اور قانونی اصولوں کے مطابق نہیں۔ صوبائی حکام نے مالی معاملات کے حل کے لیے آئینی دائرہ کار اور باہمی مشاورت کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے وفاق کو 6.4 ارب روپے کی ادائیگی کو سابق وزیراعظم **عمران خان سے ملاقات** سے مشروط کیے جانے کے معاملے پر سیاسی اور آئینی حلقوں میں مزید بحث متوقع ہے۔
### انسانی حقوق اور آئینی حقوق کا پہلو
وفاق اور صوبوں کے درمیان مالی وسائل کی منصفانہ تقسیم کا براہِ راست تعلق شہریوں کے **بنیادی معاشی اور سماجی حقوق** سے ہے، کیونکہ صوبائی حکومتیں انہی وسائل کے ذریعے صحت، تعلیم، امن و امان اور دیگر عوامی خدمات فراہم کرتی ہیں۔
وفاقی اور صوبائی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ مالی تنازعات کو **آئین، قانون، شفافیت اور ادارہ جاتی مکالمے** کے ذریعے حل کیا جائے، تاکہ سیاسی اختلافات کا اثر عام شہریوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی پر نہ پڑے۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی حمایت کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر فراہم کردہ معلومات اور خیبرپختونخوا حکومت سے منسوب مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ آئینی شقوں کی قانونی تشریح اور مالی ادائیگی سے متعلق حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی و آئینی فورمز کے اختیار میں ہے۔


