**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** — پاکستان میں مشہور شخصیات سمیت مختلف اہم شخصیات کی مبینہ طور پر **مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے جعلی اور نازیبا ویڈیوز تیار کرنے والے 114 رکنی بین الاقوامی نیٹ ورک** کے خلاف کارروائی اور گرفتاریوں کا دعویٰ سامنے آیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مبینہ گلوبل نیٹ ورک **اسلام آباد کے ایک نجی کمرشل پلازہ** میں فعال تھا، جہاں غیرملکی عناصر مبینہ طور پر نازیبا ویڈیوز کی تیاری اور تقسیم کا بین الاقوامی کاروبار چلا رہے تھے۔
ایف آئی آر میں درج تفصیلات کے مطابق گرفتار افراد کا تعلق **چار مختلف ممالک** سے بتایا گیا ہے، جبکہ غیرملکی ملزمان کے ساتھ **دو درجن سے زائد پاکستانی شہری** بھی مبینہ طور پر نیٹ ورک کا حصہ تھے۔
تفتیشی حکام کے مطابق ملزمان نے ایک **نجی کمپنی قائم کرکے مبینہ طور پر نازیبا ویڈیوز کا نیٹ ورک** تشکیل دیا۔ کارروائی کے دوران ملزمان کے قبضے سے ویتنام سمیت دیگر ممالک کی اہم شخصیات سے متعلق مبینہ نازیبا ویڈیوز بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق ملزمان بڑی شخصیات کی **مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ جعلی ویڈیوز** بنانے میں بھی ملوث تھے۔ حکام کی جانب سے نیٹ ورک کے طریقہ کار، ممکنہ متاثرین اور ڈیجیٹل مواد کے ذرائع سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔
### انسانی حقوق اور ڈیجیٹل پرائیویسی کا پہلو
مصنوعی ذہانت کے ذریعے کسی فرد کی **جعلی نازیبا ویڈیو تیار کرنا یا اسے بغیر اجازت پھیلانا** عزتِ نفس، رازداری، وقار اور ذاتی شناخت کے حقوق کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔ ایسے مواد کا غلط استعمال متاثرہ افراد کو سماجی بدنامی، ذہنی دباؤ، ہراسانی اور دیگر نقصانات سے دوچار کرسکتا ہے۔
ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ ڈیجیٹل جرائم کے خلاف مؤثر کارروائی کرتے ہوئے متاثرین کے **حقِ رازداری، عزتِ نفس اور قانونی تحفظ** کو یقینی بنائیں۔ ساتھ ہی گرفتار افراد کے خلاف کارروائی میں **شفاف تفتیش، قانونی طریقہ کار اور منصفانہ سماعت** کے اصولوں کی پابندی بھی ضروری ہے۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی حمایت کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر ایف آئی آر میں درج معلومات اور فراہم کردہ تفصیلات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ گرفتار افراد کے خلاف عائد الزامات تاحال عدالتی طور پر ثابت نہیں ہوئے، اور تمام ملزمان کو قانون کے تحت **بیگناہی اور منصفانہ سماعت کا حق** حاصل ہے۔


