**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** — فلم سازوں نے فلم **’گھوسٹ اسکول‘** کو سندھ میں نمائش کی اجازت نہ دینے کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا، جس پر عدالت نے سندھ حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے **21 اگست تک جواب** طلب کرلیا۔
درخواست کی سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل **معیز بیگ ایڈووکیٹ** نے مؤقف اختیار کیا کہ **سینٹرل سینسر بورڈ اور پنجاب سینسر بورڈ** پہلے ہی فلم کی نمائش کی اجازت دے چکے ہیں، تاہم سندھ بورڈ آف فلم سینسرز فلم کو سندھ میں نمائش کے لیے منظوری نہیں دے رہا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ **سندھ موشن ایکٹ 2011** کے تحت کسی فلم کو سینسر سرٹیفکیٹ سے انکار مخصوص قانونی بنیادوں پر ہی کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق سینسر قوانین میں مذہب، قومی سلامتی، بین الاقوامی تعلقات یا اخلاقیات کے خلاف مواد کی موجودگی پابندی کی وجوہات میں شامل ہے، تاہم سندھ سینسر بورڈ کا فیصلہ ان میں سے کسی قانونی بنیاد کے تحت نہیں آتا۔
درخواست گزار کے وکیل کے مطابق فلم **’گھوسٹ اسکول‘** میں گھوسٹ اسکولز کے مسئلے کو اجاگر کیا گیا ہے اور فلم کو برطانیہ میں منعقدہ **ایشین فلم فیسٹیول** میں بہترین ہدایت کاری کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔
وکیل نے مزید مؤقف اختیار کیا کہ فلم سازوں کو نہ کوئی **شوکاز نوٹس** جاری کیا گیا اور نہ ہی اپنا مؤقف پیش کرنے کا مناسب موقع دیا گیا۔
سندھ ہائی کورٹ نے سندھ حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے پر جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے فریقین کو **21 اگست** تک اپنا جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
**Support HRNW:**
انسانی حقوق، آزادیِ اظہار، انصاف اور آزاد صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی حمایت کریں۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**Disclaimer:**
یہ خبر عدالت میں پیش کیے گئے مؤقف اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر ہے۔ درخواست گزاروں کی جانب سے عائد کیے گئے الزامات اور قانونی نکات عدالت کے حتمی فیصلے سے مشروط ہیں۔


