14

پاکستان کا مجموعی قرض 99.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گیا، ایک سال میں 5.2 ٹریلین روپے اضافہ

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)،** پاکستان کا مجموعی قرض **99.6 ٹریلین روپے** تک پہنچ گیا ہے، جبکہ ایک سال کے دوران ملکی قرض میں **5.2 ٹریلین روپے کا اضافہ** ریکارڈ کیا گیا۔

دستیاب اعداد و شمار کے مطابق **30 جون 2025** تک پاکستان کا مجموعی قرض 94.387 ٹریلین روپے تھا، جو جون 2026 تک بڑھ کر **99.6 ٹریلین روپے** تک پہنچ گیا۔

اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کا **مقامی قرض 59.441 ٹریلین روپے** تک پہنچ گیا، جبکہ پاکستان کا **بیرونی قرض جون 2026 تک 36.19 ٹریلین روپے** ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2026 کے دوران قرضوں پر **7.266 ٹریلین روپے سود** کی ادائیگی کی گئی، جبکہ مالی سال 2025 میں قرضوں پر سود کی ادائیگی **9.466 ٹریلین روپے** ریکارڈ کی گئی تھی۔

قرضوں میں مسلسل اضافے کے باعث ملکی معیشت پر قرضوں کی ادائیگی اور سود کے بوجھ کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ معاشی ماہرین کے نزدیک قرضوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی نظم و ضبط کو مزید بہتر بنانا ضروری ہے۔

**انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو:**
ایچ آراین ڈبلیو کے مطابق ملکی قرض اور اس پر ادا کیا جانے والا سود براہِ راست عوامی مالی وسائل اور حکومتی اخراجات کی ترجیحات سے جڑا معاملہ ہے۔ قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ کے اثرات بالخصوص **مہنگائی، روزگار، صحت، تعلیم اور بنیادی عوامی سہولیات** پر مرتب ہوسکتے ہیں۔ عوامی مفاد میں قرضوں کے استعمال، مالیاتی پالیسی اور سرکاری اخراجات میں شفافیت اور جواب دہی ضروری ہے۔

**Support HRNW:** انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، عوامی مسائل اور قومی امور سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کو سپورٹ کریں۔

**ڈس کلیمر:** یہ خبر فراہم کردہ معاشی اعداد و شمار کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ اعداد و شمار کے حتمی ماخذ، طریقۂ حساب اور مختلف قرضوں کی درجہ بندی کے حوالے سے متعلقہ سرکاری اداروں کی وضاحت سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ ایچ آراین ڈبلیو معاشی اعداد و شمار کو عوامی مفاد میں غیر جانب دارانہ انداز میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں