**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)، 12 اگست 2026:** سینیئر سول جج جنوبی کی عدالت نے دورانِ سرجری خاتون کے جسم میں کپڑا رہ جانے کے معاملے میں **طبی غفلت ثابت ہونے پر سول اسپتال کو 65 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے** کا حکم دے دیا۔
عدالت میں دائر مقدمے کے مطابق مدعیہ **نجمہ** کی سال **2015 میں سول اسپتال میں سرجری** ہوئی تھی۔ مدعیہ کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سرجری کے چند ماہ بعد خاتون کو شدید تکلیف کا سامنا ہوا، جس پر ان کا **سی ٹی اسکین** کرایا گیا۔
وکیل کے مطابق سی ٹی اسکین میں خاتون کے جسم کے اندر غیر معمولی مواد کی موجودگی کا انکشاف ہوا، جس کے بعد ایک نجی اسپتال میں دوبارہ آپریشن کرکے جسم کے اندر رہ جانے والا کپڑا نکالا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ **مریضہ کے جسم میں سرجری کے دوران کپڑا رہ جانا طبی غفلت کے زمرے میں آتا ہے۔**
عدالت کے مطابق ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاتون کی سرجری میں شامل دونوں خواتین ڈاکٹرز اس وقت **تربیتی مراحل میں تھیں**۔ اسپتال کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ آپریشن کے دوران ایک سینیئر ڈاکٹر بھی موجود تھے، تاہم اس ڈاکٹر کی شناخت اور متعلقہ ریکارڈ عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ اسپتال پر لازم تھا کہ سرجری کے دوران **تجربہ کار ڈاکٹرز کی خدمات حاصل کی جاتیں**۔
عدالت نے واضح کیا کہ سول عدالت کا دائرہ اختیار **ہرجانے کے تعین اور ادائیگی** تک محدود ہے، جبکہ ڈاکٹروں کے لائسنس یا ان کے خلاف کسی کارروائی سے متعلق معاملہ متعلقہ ریگولیٹری ادارے کے سامنے اٹھایا جاسکتا ہے۔
عدالت نے **سول اسپتال کو دو ماہ کے اندر مدعیہ کو 65 لاکھ روپے ہرجانہ ادا کرنے** کا حکم دے دیا۔
**Support HRNW:** انسانی حقوق، مریضوں کے حقوق، قانون اور عوامی مفاد سے متعلق آزاد اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کو سپورٹ کریں:
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
**ڈس کلیمر:** یہ خبر عدالتی کارروائی اور عدالت میں پیش کیے گئے مؤقف کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ طبی غفلت سے متعلق عدالت کا فیصلہ اور ہرجانے کا حکم اصل عدالتی فیصلے کے مطابق ہے۔


