18

چھوٹے صوبے اور نئے انتظامی یونٹس وقت کی ضرورت ہیں، وفاقی وزیر جام کمال خان نے حمایت کردی

اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو) — وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا ہے کہ چھوٹے صوبوں اور نئے انتظامی یونٹس کا قیام وقت کی ضرورت ہے، تاہم اس کا بنیادی مقصد سیاست نہیں بلکہ اختیارات، وسائل اور سرکاری خدمات کو عوام کے مزید قریب لانا ہونا چاہیے۔

جام کمال خان نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے گورننس اور عوامی خدمات کی فراہمی زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔ انتظامی یونٹس کو چھوٹا کرنے سے مالی اور انتظامی اختیارات نچلی سطح تک منتقل ہوں گے اور مقامی ضروریات پر زیادہ توجہ دی جا سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد وفاق سے صوبوں کو اختیارات منتقل ہوئے، لیکن صوبوں سے اضلاع تک اسی انداز میں اختیارات کی منتقلی نہیں ہو سکی۔ اٹھارویں ترمیم کا مقصد اختیارات اور وسائل عام آدمی کی دہلیز تک پہنچانا تھا، اس لیے صوبوں کے اندر اضلاع کو وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے بھی واضح فارمولا ہونا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے تجویز دی کہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) ایوارڈ کی طرز پر اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم کا طریقہ کار بنایا جائے۔ ان کے مطابق اگر ایک ضلع کو دو ارب روپے اور دوسرے کو بیس ارب روپے ملیں گے تو ترقی کے معیار میں فرق لازمی پیدا ہوگا، جبکہ وسائل کی غیر مساوی تقسیم عوام میں محرومی، بے چینی اور عدم اعتماد کو جنم دیتی ہے۔

جام کمال خان نے کہا کہ ترقیاتی وسائل چند افراد یا محدود گروہوں کی صوابدید پر تقسیم نہیں ہونے چاہئیں۔ کسی ضلع کے عوام کو صرف اس لیے محروم نہیں کیا جا سکتا کہ ان کا نمائندہ حکومت میں شامل نہیں۔

انہوں نے بلوچستان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان پاکستان کے مجموعی رقبے کا تقریباً 44 فیصد ہے اور بعض علاقوں سے صوبائی دارالحکومت تک پہنچنے کے لیے سینکڑوں کلومیٹر کا سفر کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں کو بنیادی سرکاری خدمات کے حصول کے لیے 600، 700 یا حتیٰ کہ ایک ہزار کلومیٹر سفر کیوں کرنا پڑے؟ چھوٹے انتظامی یونٹس کے ذریعے بنیادی خدمات عوام کے علاقوں کے قریب لائی جا سکتی ہیں۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ چند اضلاع پر مشتمل انتظامی یونٹس سے مقامی ضروریات پر زیادہ توجہ دی جا سکے گی، ترقیاتی وسائل کی متوازن تقسیم ممکن ہوگی اور مختلف علاقوں کے درمیان صحت مند مسابقت پیدا ہوگی۔ ضلع حکومتوں کے نظام میں اس صحت مند مسابقت کے مثبت نتائج پہلے بھی دیکھے جا چکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا نوجوان یہ محسوس کرتا ہے کہ فیصلہ سازی میں اس کی آواز کو مناسب اہمیت نہیں مل رہی۔ چھوٹے انتظامی یونٹس نوجوانوں میں شمولیت، اہمیت اور امید کا احساس پیدا کر سکتے ہیں۔ انتظامی یونٹس چھوٹے ہوں گے تو حکومتیں اور سیاسی جماعتیں مقامی نمائندوں کو نظر انداز نہیں کر سکیں گی اور نگرانی و توازن کا نظام بھی زیادہ مؤثر ہوگا۔

جام کمال خان نے مقامی حکومتوں کو مضبوط بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کونسلر عوام کے سب سے قریب ہوتا ہے، اس لیے مقامی حکومتوں کو مناسب وسائل اور اختیارات دینا ہوں گے۔ بلوچستان کے تمام اضلاع کو یکساں انتظامی سہولیات اور ضروری وسائل میسر ہونے چاہئیں۔ جس ضلع کے پاس گاڑی، افرادی قوت اور ضروری آلات ہی نہ ہوں، اس سے یکساں کارکردگی کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے معاملے پر پارلیمنٹ، سینیٹ، ذرائع ابلاغ اور عوامی سطح پر سنجیدہ بحث ہونی چاہیے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ گورننس کے نظام کو عوام کی موجودہ ضروریات کے مطابق تبدیل کیا جائے۔

وفاقی وزیر تجارت نے واضح کیا کہ مقصد سیاست نہیں بلکہ عوام کو بہتر سرکاری خدمات کی فراہمی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنانا ہے۔

📢 Support HRNW

Human Rights News Worldwide (HRNW) آزاد، ذمہ دار اور انسانی حقوق پر مبنی صحافت، عوامی آگاہی اور حقائق پر مبنی معلومات کی فراہمی کے لیے کام کر رہا ہے۔ آپ کی معاونت ہماری آزاد آواز کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

HRNW کو سپورٹ کرنے کے لیے وزٹ کریں:
Support HRNW

⚠️ Disclaimer

ڈسکلیمر: یہ خبر دستیاب معلومات، سرکاری بیانات اور متعلقہ ذرائع کی بنیاد پر شائع کی گئی ہے۔ خبر میں بیان کردہ آراء متعلقہ شخصیات سے منسوب ہیں اور ضروری نہیں کہ HRNW ان آراء کی توثیق کرتا ہو۔ HRNW کا مقصد عوام تک معلومات پہنچانا اور انسانی حقوق، شفافیت اور ذمہ دار صحافت کو فروغ دینا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں