20

سندھ ہائی کورٹ کا بری ہونے والے ملزم کا شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائی کورٹ میں 43 ہزار سے زائد مفرور ملزمان کے قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران غیر قانونی اسلحے کے مقدمے میں نامزد ملزم **آصف علی** کی درخواست پر عدالت نے اس کا قومی شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم دے دیا۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آصف علی متعلقہ مقدمے میں بری ہوچکا ہے، اس لیے اس کا قومی شناختی کارڈ بلاک رکھنے کا کوئی قانونی جواز نہیں بنتا۔ وکیل نے استدعا کی کہ **نادرا** کو شناختی کارڈ فوری طور پر بحال کرنے کی ہدایت جاری کی جائے۔

سماعت کے دوران سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ نے 2023 میں سانحہ بلدیہ کیس کی سماعت کے دوران مفرور ملزمان کی شناختی دستاویزات بلاک کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ ان کے مطابق یہ احکامات بیرون ملک مفرور **حماد صدیقی** اور دیگر ملزمان کی گرفتاری سے متعلق مقدمے میں دیے گئے تھے۔

سرکاری وکیل نے مزید بتایا کہ پولیس رپورٹ کے مطابق عدالتی احکامات پر عمل درآمد کرتے ہوئے **43 ہزار 994** مفرور ملزمان کی شناختی دستاویزات اور بینک اکاؤنٹس بلاک کیے گئے تھے۔

دلائل سننے کے بعد عدالت نے درخواست گزار آصف علی کا قومی شناختی کارڈ بحال کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

### انسانی حقوق اور عوامی مفاد کا پہلو

شناختی دستاویزات ہر شہری کی قانونی شناخت، بنیادی سہولیات، بینکاری، روزگار اور سرکاری خدمات تک رسائی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق اگر کوئی شخص عدالت سے بری ہو جائے یا اس کے خلاف قانونی پابندی برقرار رکھنے کی بنیاد ختم ہو جائے تو اس کے بنیادی حقوق کی بحالی بھی قانون کے مطابق یقینی بنائی جانی چاہیے، جبکہ مفرور ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی بھی عدالتی احکامات اور قانون کے دائرے میں جاری رہنی چاہیے۔

### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** عوامی مفاد، عدالتی امور، آئینی حقوق، قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق سے متعلق آزاد، ذمہ دارانہ اور متوازن صحافت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔

آپ کا تعاون آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی آگاہی کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

**ڈسکلیمر:** یہ خبر عدالت میں ہونے والی کارروائی، وکلاء کے دلائل اور سرکاری مؤقف پر مبنی ہے۔ مقدمے سے متعلق مزید عدالتی کارروائی یا متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے کی صورت میں خبر کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں