19

سندھ ہائیکورٹ: سابق صدر عارف علوی کی سرکاری گھر سے متعلق آئینی درخواست پر سماعت

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ ہائیکورٹ نے سابق صدر **عارف علوی** کی جانب سے باتھ آئی لینڈ میں واقع سرکاری گھر سے متعلق دائر آئینی درخواست پر سماعت کی اور فوری سماعت کی درخواست منظور کرلی۔

سماعت کے دوران سابق صدر عارف علوی نے مؤقف اختیار کیا کہ باتھ آئی لینڈ میں انہیں قانونی طور پر الاٹ کیا گیا گھر ایک سابق کسٹمز ملازم نے قبضے میں لے رکھا ہے۔

دوسری جانب سابق کسٹمز ملازم نے عدالت کو بتایا کہ گھر انہیں بھی قانونی طور پر الاٹ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس وزارتِ قانون کا خط موجود ہے جس کے مطابق انہیں **60 برس کی عمر کے بعد گھر خالی کرنا ہے**۔

سابق صدر کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عارف علوی کو یہ گھر **صدارتی عہدہ ختم ہونے کے بعد الاٹ کیا گیا تھا**۔

جسٹس عدنان کریم نے ریمارکس دیے کہ اصولی طور پر دونوں فریق ریٹائر ہو چکے ہیں۔ عدالت نے سوال اٹھایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سرکاری گھر واپس کیوں نہیں کیے جاتے۔

سابق کسٹمز ملازم نے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ریٹائرمنٹ کے بعد گھر خالی کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ درخواست گزار ملک میں مستقل طور پر قیام پذیر نہیں اور سوال اٹھایا کہ جو شخص ملک میں رہتا ہی نہیں، اسے سرکاری گھر کیسے دیا جا سکتا ہے۔

عدالت نے سابق صدر عارف علوی کی **فوری سماعت کی درخواست منظور** کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت **31 اگست** تک ملتوی کردی۔

### انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا پہلو

سرکاری املاک کی الاٹمنٹ، استعمال اور واپسی میں شفافیت، مساوات اور قانون کی یکساں عملداری بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ایسے معاملات میں تمام فریقین کے قانونی حقوق کا تحفظ اور عدالتی نگرانی شفاف انصاف کے لیے ضروری ہے۔

### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، احتساب اور عوامی مفاد کے معاملات پر آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت کے لیے کام کر رہا ہے۔

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

**ڈسکلیمر:** یہ رپورٹ عدالت میں پیش کیے گئے فریقین کے مؤقف اور فراہم کردہ معلومات پر مبنی ہے۔ سرکاری گھر کی قانونی الاٹمنٹ اور قبضے سے متعلق حتمی فیصلہ عدالت کے آئندہ احکامات اور سرکاری ریکارڈ کی بنیاد پر ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں