**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** نوجوان تاجر **میر رضا** کی قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کے لیے تشکیل دیے گئے میڈیکل بورڈ میں تبدیلی کے معاملے پر مقتول کے والد کے وکیل **جبران ناصر ایڈووکیٹ** نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو ہنگامی خط ارسال کردیا۔
خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ عدالت کے احکامات کے مطابق **اصل میڈیکل بورڈ** ہی سے قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم کرایا جائے۔ وکیل کے مطابق عدالت نے پولیس سرجن کراچی اور سیکریٹری صحت کو میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی ہدایت کی تھی، جس کے بعد پولیس سرجن کراچی نے **آٹھ رکنی بورڈ** تشکیل دیا تھا۔
خط کے مطابق اصل میڈیکل بورڈ میں **فارنزک اور پیتھالوجی کے ماہرین** بھی شامل تھے، جبکہ مقتول کے ورثا نے اس بورڈ پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا۔
وکیل کا کہنا ہے کہ **6 اگست کی رات ڈی جی ہیلتھ حیدرآباد نے نیا میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر پرانے بورڈ کے تمام ارکان تبدیل کر دیے**۔ خط میں اس اقدام کو عدالتی احکامات کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ڈی جی ہیلتھ کو پولیس سرجن کے اختیارات میں مداخلت کا اختیار نہیں۔
مقتول کے ورثا نے نئے میڈیکل بورڈ کے ذریعے قبر کشائی پر رضامندی دینے سے انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ نئے بورڈ کی جانب سے قبر کشائی عدالتی حکم کی خلاف ورزی تصور ہوگی۔
وکیل جبران ناصر کے مطابق میڈیکل بورڈ میں اچانک تبدیلی نے مقتول کے اہل خانہ کے خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔
### انسانی حقوق اور شفاف تحقیقات کا پہلو
قبر کشائی اور پوسٹ مارٹم جیسے حساس قانونی مراحل میں شفافیت، عدالتی احکامات کی پابندی اور غیر جانب دار ماہرین کی شمولیت متاثرہ خاندان کے انصاف کے حق کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ تمام متعلقہ اداروں کو قانونی طریقۂ کار اور عدالتی احکامات کے مطابق کارروائی یقینی بنانی چاہیے۔
### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**
**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، انصاف، شفاف تحقیقات اور قانون کی حکمرانی کے معاملات پر آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت کے لیے کام کر رہا ہے۔
[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)
آپ کا تعاون آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی آگاہی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔
**ڈسکلیمر:** یہ رپورٹ مقتول کے ورثا کے وکیل کی جانب سے فراہم کردہ خط اور مؤقف پر مبنی ہے۔ میڈیکل بورڈ میں تبدیلی اور عدالتی احکامات کی تعمیل سے متعلق حتمی قانونی حیثیت متعلقہ عدالت اور سرکاری ریکارڈ سے متعین ہوگی۔


