14

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ، ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

**مکہ مکرمہ (ایچ آراین ڈبلیو):** سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ نے ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو تینوں ممالک کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

مکہ مکرمہ کے **قصر الصفا** میں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کا مشترکہ دفاعی سربراہی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم **محمد بن سلمان**، ترک صدر **رجب طیب اردوان** اور وزیراعظم پاکستان **محمد شہباز شریف** نے شرکت کی۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اجلاس کے دوران تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے گئے، جسے **مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ** کا نام دیا گیا ہے۔

معاہدے پر سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے دستخط کیے۔

### انسانی حقوق اور علاقائی امن کا پہلو

دفاعی تعاون کا بنیادی مقصد رکن ممالک کی خودمختاری، علاقائی سلامتی اور شہریوں کے تحفظ کو مضبوط بنانا قرار دیا جا سکتا ہے۔ کسی بھی دفاعی اتحاد کے ساتھ بین الاقوامی قانون، شہریوں کے تحفظ اور تنازعات کے پُرامن حل کے اصولوں کی پاسداری بھی اہم ہے۔

### **Support HRNW — ہماری آزاد صحافت کو سپورٹ کریں**

**Human Rights News Worldwide (HRNW)** انسانی حقوق، امن، عالمی امور اور عوامی مفاد کے معاملات پر آزاد اور ذمہ دارانہ صحافت کے لیے کام کر رہا ہے۔

[Support HRNW](https://www.hrnww.com/?page_id=1083&utm_source=chatgpt.com)

آپ کا تعاون آزاد صحافت اور انسانی حقوق کی آگاہی کے فروغ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

**ڈسکلیمر:** یہ رپورٹ فراہم کردہ معلومات اور بیان کردہ سرکاری مؤقف کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہے۔ معاہدے کی مکمل شرائط اور اس کے عملی اطلاق سے متعلق حتمی تفصیلات متعلقہ حکومتوں کے سرکاری اعلامیوں سے ہی متعین ہوں گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں