12

گلبہار تھانے میں وکیل پر مبینہ تشدد کے معاملے پر آئی جی سندھ کی کراچی بار سے ملاقات، مذاکرات کے بعد کشیدگی میں کمی

**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** گلبہار تھانے میں ایک وکیل پر مبینہ تشدد کے واقعے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے تناظر میں **انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس جاوید عالم اوڈھو** سٹی کورٹ کراچی پہنچے، جہاں انہوں نے **کراچی بار ایسوسی ایشن** کی قیادت سے ملاقات اور مذاکرات کیے۔

اس موقع پر **ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا** بھی آئی جی سندھ کے ہمراہ موجود تھے۔ ملاقات کے دوران کراچی بار کی قیادت نے آئی جی سندھ کو **اجرک** کا تحفہ پیش کیا۔

گفتگو کے دوران آئی جی سندھ نے کہا کہ **بار، بینچ اور پولیس کو مل کر ریاستی اداروں کو مضبوط بنانا ہوگا**۔ انہوں نے زور دیا کہ چھوٹے تنازعات کو افہام و تفہیم سے حل کرتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے اور پولیس و وکلاء کی قیادت کو تدبر اور برداشت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

جاوید عالم اوڈھو نے مزید کہا کہ جذباتی فیصلوں سے پولیس اور وکلاء کے درمیان ورکنگ ریلیشن متاثر نہیں ہونے چاہئیں، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان تنازعات کے مستقل حل کے لیے باقاعدہ مکالمے کی ضرورت ہے۔

کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر **عامر نواز وڑائچ** نے کہا کہ بار کا مطالبہ صرف متعلقہ واقعے میں مقدمہ درج کرنے کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ آئی جی سندھ خود مذاکرات کے لیے آئے ہیں، اس لیے بار مزید احتجاجی اقدامات نہیں کرے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی وکیل کسی غلطی کا مرتکب ہو تو پولیس کو براہِ راست کارروائی کے بجائے **سندھ بار کونسل** سے رجوع کرنا چاہیے، جبکہ تھانے آنے والے ہر وکیل کے ساتھ عزت و احترام کا رویہ اختیار کیا جانا چاہیے۔

### میر علی رضا کیس پر آئی جی سندھ کا مؤقف

آئی جی سندھ نے گفتگو کے دوران **میر علی رضا** کیس کا بھی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس نے اس کیس پر بھرپور محنت کی ہے اور اسے مکمل طور پر ٹریس کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیس کے تمام حقائق جلد عوام کے سامنے لائے جائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کیس میں کچھ ابہام پیدا ہوا ہے اور ایک غیر متعلقہ میڈیکو لیگل افسر کی جانب سے کیس پر تبصرہ کیا جا رہا ہے۔ آئی جی سندھ کا کہنا تھا کہ اگر عدالت یا متعلقہ حکام **میڈیکل بورڈ** تشکیل دیتے ہیں تو پولیس کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا، اور طبی ماہرین کی رائے کی روشنی میں تفتیش کو آگے بڑھایا جائے گا۔

### انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کا پہلو

وکلاء اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان باہمی احترام، مکالمہ اور قانون کی بالادستی انصاف کے مؤثر نظام کے لیے ناگزیر ہیں۔ ایسے معاملات میں شفاف تحقیقات، قانونی کارروائی اور ادارہ جاتی تعاون عوام کے عدالتی نظام پر اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

### **HRNW کی حمایت کریں**

اگر آپ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت اور انسانی حقوق کی رپورٹنگ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک کے ذریعے تعاون کریں:

**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

آپ کا تعاون آزاد صحافت، شفافیت اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** عوام تک مستند، غیرجانبدار اور بروقت معلومات پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔

**نوٹ:** یہ خبر متعلقہ فریقین کے بیانات پر مبنی ہے۔ گلبہار تھانے کے واقعے اور میر علی رضا کیس سے متعلق قانونی و تفتیشی کارروائیاں جاری ہیں، جن کے حتمی نتائج متعلقہ حکام اور عدالتوں کی کارروائی کے بعد سامنے آئیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں