**اسلام آباد (ایچ آر این ڈبلیو):** سپریم کورٹ رجسٹری میں **فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC)** کے امتحانی پرچے مبینہ طور پر لیک کرنے کی کوشش سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے مقدمے کے مندرجات پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن اور دیگر متعلقہ فریقین سے رپورٹس طلب کر لی ہیں۔
سماعت کے دوران **جسٹس محمد علی مظہر** نے ریمارکس دیے کہ **”پیپر لیک کا معاملہ انتہائی سنگین ہے، اسے باریک بینی سے دیکھنا پڑے گا۔”** انہوں نے کہا کہ تمام تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی عدالت اس معاملے پر فیصلہ کرے گی۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت کے لیے معاملہ **سپریم کورٹ کے پرنسپل سیٹ** میں مقرر کرنے کی ہدایت بھی جاری کی، جبکہ درخواست گزار کے خلاف کی گئی انکوائری کی رپورٹ بھی عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔
درخواست گزار کے وکیل **ملک نعیم اقبال ایڈووکیٹ** نے مؤقف اختیار کیا کہ **فیڈرل پبلک سروس کمیشن نے درخواست گزار پر پیپر لیک کرنے کا الزام عائد نہیں کیا**، تاہم مقدمے میں یہ کہا گیا ہے کہ درخواست گزار نے **پیپر لیک کرنے کی کوشش** کی تھی۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار **خالد حسین** گریڈ 17 کے افسر تھے اور کوئٹہ میں تعینات تھے، جبکہ ان کے خلاف لاہور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
### انسانی حقوق اور شفافیت کا پہلو
امتحانی نظام کی شفافیت، میرٹ اور مساوی مواقع کا تحفظ عوامی اعتماد کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پیپر لیک جیسے الزامات کی غیرجانبدار، شفاف اور قانون کے مطابق تحقیقات ضروری ہیں، جبکہ ہر ملزم کو آئین کے مطابق منصفانہ سماعت، قانونی دفاع اور بے گناہی کے اصول (Presumption of Innocence) کا حق حاصل ہے۔
—
### **HRNW کی حمایت کریں**
اگر آپ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت اور انسانی حقوق کی رپورٹنگ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک کے ذریعے تعاون کریں:
**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
آپ کا تعاون آزاد صحافت، شفافیت اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
—
**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** عوام تک مستند، غیرجانبدار اور بروقت معلومات پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
**نوٹ:** یہ خبر سپریم کورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی اور فریقین کے پیش کردہ مؤقف پر مبنی ہے۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ عدالت میں پیش ہونے والے شواہد اور قانونی کارروائی کے بعد کیا جائے گا۔


