25

پاکستان میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں

کراچی (ایچ آراین ڈبلیو) کنسلٹنٹ اینڈ سی ای اوچلڈ رن اسپتال وصدرعمیرثنا فائونڈیشن ڈاکٹر ثاقب انصاری نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت تقریباً ایک لاکھ بچے تھیلیسیمیا کے مرض میں مبتلا ہیں، جن کی زندگی برقرار رکھنے کے لیے سالانہ تقریباً 18 لاکھ خون کی بوتلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر سال پانچ ہزار سے دس ہزار بچے تھیلیسیمیا کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں، جبکہ ملک میں تقریباً ایک کروڑ افراد تھیلیسیمیا مائنر (کیریئر) ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جس خاندان میں تھیلیسیمیا کا مریض بچہ پیدا ہو، اس خاندان کے تمام قریبی رشتہ دار، خصوصاً خون کے رشتوں میں ماموں، خالہ، چچا اور دیگر افراد، لازمی طور پر تھیلیسیمیا اسکریننگ کروائیں تاکہ آئندہ نسلوں کو اس موروثی مرض سے محفوظ بنایا جا سکے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روزشعبہ مائیکروبائیولوجی جامعہ کراچی کے زیر اہتمام شعبہ ہذامیں ہفتہ آزادی کی مناسبت سے تھیلیسیمیا آگاہی سیمینار اور بلڈ اسکریننگ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پرشعبہ کے زیراہتمام شجرکاری مہم کا افتتاح جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد طفیل نے شعبہ میں پودالگاکرکیا۔

ڈاکٹر ثاقب انصاری نے شادی سے قبل تھیلیسیمیا اسکریننگ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر دو تھیلیسیمیا مائنر افراد آپس میں شادی کریں تو ان کے ہاں تھیلیسیمیا میجر میں مبتلا بچے کی پیدائش کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ شادی سے پہلے تھیلیسیمیا کی پری اسکریننگ اس بیماری کی روک تھام کے لیے انتہائی مؤثر اور ضروری اقدام ہے، جس کے ذریعے آنے والی نسلوں کو اس جان لیوا موروثی مرض سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔

جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ بدقسمتی سے انسان کو جو چیز بغیر کسی جدوجہد کے حاصل ہوجائے، وہ اس کی قدر و قیمت کو اس طرح محسوس نہیں کرتا جس طرح مسلسل محنت، قربانی اور جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی کامیابی کی ہوتی ہے۔ آزادی کی حقیقی اہمیت ان لوگوں سے پوچھی جائے جنہوں نے اس کے حصول کے لیے بے مثال قربانیاں دیں، کٹھن حالات کا سامنا کیا اور ایسی لازوال جدوجہد کی جس کی دنیا میں نظیر ملنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کا دنیا کے نقشے پر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کے طور پر ابھرنا قائداعظم محمد علی جناحؒ اور ان کے رفقائے کار کی مدبرانہ قیادت، انتھک محنت اور تاریخی جدوجہد کا ثمر ہے۔ انہوں نے اپنی ذمہ داریاں بخوبی انجام دیں، تاہم آج یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے حصے کا کردار پوری دیانت داری اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ ادا کریں۔

پروفیسرڈاکٹر محمد طفیل نے کہا کہ ہر شہری پر لازم ہے کہ وہ اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو احسن انداز میں نبھائے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات ہم اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتنے کے ساتھ ساتھ شعوری یا غیر شعوری طور پر ایسے اقدامات بھی کر بیٹھتے ہیں جو معاشرے اور ملک کے مفاد کے خلاف ہوتے ہیں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتیں، توانائیاں اور علم ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے وقف کریں، وطن دشمن عناصر کے پروپیگنڈے سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی صورت میں ان کا آلۂ کار نہ بنیں۔
وائس چانسلر نے کہا کہ سوشل میڈیا آج طلبہ کی زندگی کا اہم حصہ بن چکا ہے، اس لیے اس کے ذمہ دارانہ، مثبت اور تعمیری استعمال کی اشد ضرورت ہے تاکہ نوجوان گمراہ کن اطلاعات، افواہوں اور انتشار انگیز مواد سے محفوظ رہ سکیں۔

انہوں نے تھیلیسیمیا سے متعلق آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ یومِ آزادی کی تقریبات کے ساتھ ساتھ اس اہم موضوع پر آگاہی سیمینارز اور بلڈ اسکریننگ پروگراموں کا انعقاد نہایت خوش آئند اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ خون کا عطیہ دینا ایک عظیم انسانی خدمت ہے، جس سے نہ صرف قیمتی جانیں بچائی جاسکتی ہیں بلکہ سائنسی تحقیقات کے مطابق صحت مند افراد کی اپنی صحت پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

قبل ازیں چیئر مین شعبہ مائیکروبائیولوجی جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر عبدالوہاب نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سیمینار اور شجرکاری مہم کے اغراض ومقاصدپر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں