20

کراچی بار کا پولیس رویے کے خلاف احتجاج کا اعلان، آئی جی سندھ سے ملاقات نہ ہونے پر برہمی

**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** کراچی بار ایسوسی ایشن نے مبینہ طور پر ایک وکیل پر پولیس تشدد کے واقعے کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک مقدمہ درج نہیں کیا جاتا احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا۔

کراچی بار کے صدر **عامر نواز وڑائچ** نے سٹی کورٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کی رات ایڈووکیٹ اشفاق کے ساتھ مبینہ طور پر واقعہ پیش آیا، جس کے خلاف وکلاء نے ہڑتال کی اور آئی جی آفس کے سامنے دھرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ وزیر قانون کی مداخلت پر احتجاج مؤخر کیا گیا اور آئی جی سندھ کو کراچی بار کے دفتر آکر مذاکرات کرنے کی دعوت دی گئی۔ ان کے مطابق ملاقات کے لیے ساڑھے گیارہ بجے کا وقت مقرر تھا، تاہم ڈیڑھ بجے تک آئی جی سندھ نہیں آئے۔

کراچی بار کے صدر نے الزام عائد کیا کہ ایک ایس ایچ او نے ایک وکیل کو تھپڑ مارا اور حراست میں لیا۔ انہوں نے کہا کہ کرائم کنٹرول ہر جگہ ہوتا ہے لیکن پولیس افسران کو قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ وکلاء کو سڑکیں بند کرنے کا شوق نہیں، تاہم اگر مسائل حل نہ کیے گئے تو احتجاج کرنا ان کا حق ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعہ کی صبح 11 بجے آئی جی آفس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا اور مقدمہ درج ہونے تک احتجاج جاری رہے گا۔

کراچی بار کے جنرل سیکریٹری **ارشد شر** نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گلبہار تھانے میں کراچی بار کے سابق ممبر منیجنگ کمیٹی اور ایک وکیل کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایس ایچ او کے مبینہ اقدام کو ڈی ایس پی نے بھی تسلیم کیا اور بتایا کہ زدوکوب کا معاملہ سامنے آیا ہے، جس پر مقدمہ درج ہونا چاہیے۔

ارشد شر کے مطابق ایس ایس پی نے کہا کہ متعلقہ اہلکار کے خلاف محکمانہ کارروائی کرتے ہوئے عہدے میں تنزلی کی جائے گی، تاہم ان کا کہنا تھا کہ محکمانہ کارروائی مقدمے کا متبادل نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے آئی جی سندھ کی جانب سے مقررہ وقت پر نہ آنے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ احتجاج آئی جی سندھ کی یقین دہانی پر مؤخر کیا گیا تھا، مگر تاحال ملاقات نہیں ہو سکی۔

### انسانی حقوق کا پہلو

قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شہریوں کے درمیان اعتماد کا قیام قانون کی حکمرانی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ حراست، تفتیش یا کسی بھی کارروائی کے دوران تشدد یا اختیارات کے مبینہ غلط استعمال کے الزامات کی شفاف اور غیرجانبدار تحقیقات ضروری ہیں۔ اسی طرح پولیس اہلکاروں کے قانونی فرائض کی انجام دہی اور وکلاء سمیت تمام شہریوں کے قانونی حقوق کا تحفظ ریاستی ذمہ داری ہے۔

### **HRNW کی حمایت کریں**

اگر آپ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت اور انسانی حقوق کی رپورٹنگ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک کے ذریعے تعاون کریں:

**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**

آپ کا تعاون آزاد صحافت، انصاف، شفافیت اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** عوام تک مستند، غیرجانبدار اور بروقت معلومات پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔

**نوٹ:** یہ خبر کراچی بار ایسوسی ایشن کے عہدیداران کے بیانات پر مبنی ہے۔ پولیس کا مؤقف اور واقعے کی مکمل تفصیلات سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں