**کراچی (ایچ آر این ڈبلیو):** سندھ ہائیکورٹ نے صوبے میں وال چاکنگ اور غیر قانونی پوسٹرز کے خلاف قانون پر عملدرآمد سے متعلق درخواست کی سماعت کرتے ہوئے غیر قانونی پوسٹرز، بینرز اور وال چاکنگ فوری ختم کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ قانون پر عملدرآمد نہ ہونا شہریوں کی زندگی، شہری حسن اور صاف ستھرے ماحول کے حق کو متاثر کرتا ہے۔ عدالت نے چیف سیکریٹری سندھ سے قانون کے نفاذ اور **اینٹی ڈیفیسمنٹ ٹاسک فورس** کے قیام سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔
سندھ ہائیکورٹ نے تمام بلدیاتی اداروں اور مقامی کونسلز کو ہدایت کی کہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے غیر قانونی بینرز، پوسٹرز اور وال چاکنگ فوری طور پر ختم کریں۔
درخواست گزار کے مطابق دیواروں کو بدنما کرنے اور غیر قانونی پوسٹرز کی روک تھام کے لیے **پریوینشن آف ڈیفیسمنٹ آف پراپرٹی ایکٹ 2013ء** نافذ کیا گیا تھا، جس کے تحت جائیداد کو نقصان پہنچانے پر چھ ماہ تک قید یا پانچ ہزار روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
درخواست میں بتایا گیا کہ جرم جاری رکھنے کی صورت میں روزانہ ایک ہزار روپے اضافی جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم قانون کے مطابق جائیداد کے مالک یا قابض کو اپنے ذاتی کاروبار سے متعلق معلومات یا بورڈ آویزاں کرنے کی اجازت حاصل ہے۔
سماعت کے دوران چیف سیکریٹری سندھ کی جانب سے رپورٹ عدالت میں پیش نہ کی جا سکی، جس پر حکومت سندھ نے مزید مہلت طلب کی۔ عدالت نے درخواست کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
### انسانی حقوق کا پہلو
صاف، محفوظ اور صحت مند ماحول میں زندگی گزارنے کا حق شہریوں کے بنیادی حقوق کا حصہ ہے۔ غیر قانونی وال چاکنگ اور اشتہاری مواد نہ صرف شہری ماحول کو متاثر کرتے ہیں بلکہ عوامی املاک کی حفاظت اور شہری نظم و ضبط سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔ قوانین کا مؤثر نفاذ، شفاف نگرانی اور شہریوں کی شرکت بہتر ماحول اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
—
### **HRNW کی حمایت کریں**
اگر آپ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت اور انسانی حقوق کی رپورٹنگ کی حمایت کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل لنک کے ذریعے تعاون کریں:
**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
آپ کا تعاون آزاد صحافت، شفافیت اور انسانی حقوق کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
—
**ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW)** عوام تک مستند، غیرجانبدار اور بروقت معلومات پہنچانے کے لیے پرعزم ہے۔
**نوٹ:** یہ خبر سندھ ہائیکورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی اور درخواست گزار کے مؤقف پر مبنی ہے۔


