**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سندھ ہائیکورٹ میں **بی آر ٹی ییلو لائن منصوبے میں مبینہ طور پر ساڑھے آٹھ ارب روپے کی کرپشن** سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر **ضمیر عباسی** کی درخواست ضمانت پر دلائل دیے گئے۔
سماعت کے دوران ملزم ضمیر عباسی کے وکیل **راج علی واحد** نے مؤقف اختیار کیا کہ سرکاری وکیل نے ٹرائل کورٹ میں درخواست ضمانت پر **نو آبجیکشن** دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ضمیر عباسی ایک بیوروکریٹ اور قابل افسر ہیں۔
جسٹس **میران محمد شاہ** نے استفسار کیا کہ خرد برد کس معاملے میں ہوئی ہے؟ جس پر وکیل صفائی نے جواب دیا کہ خرد برد کا کوئی الزام نہیں، صرف ایڈوانس ادائیگی کا معاملہ بنایا گیا ہے۔
وکیل ضمیر عباسی نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی کو مالی فائدہ پہنچانے کا الزام بھی ثابت نہیں، جبکہ تین کانٹریکٹرز موجود ہیں لیکن کسی کو ملزم یا گواہ نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ضمیر عباسی ڈسپرسنگ اتھارٹی نہیں تھے تو انہیں ذمہ دار کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔
جسٹس میران محمد شاہ نے ریمارکس دیے کہ سرکاری وکیل کی جانب سے نو آبجیکشن دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ خود بھی 16 سال سرکاری وکیل رہے ہیں۔ عدالت نے سوال کیا کہ کرپشن کے مقدمات کیسے بنائے جاتے ہیں اور کیا اس کیس میں سی ایم آئی ٹی نے مقدمہ درج کرایا تھا؟
جسٹس میران محمد شاہ نے مزید ریمارکس دیے کہ اینٹی کرپشن کے مقدمات میں مدعی اکثر تفتیشی افسر ہوتا ہے اور اس کیس میں کوئی متاثرہ فریق موجود نہیں۔
وکیل ضمیر عباسی نے عدالت کو بتایا کہ ایڈوانس ادائیگی کرکے کوئی غلط کام نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ضمیر عباسی سے پہلے منصوبے پر کام انتہائی سست روی کا شکار تھا، جبکہ اب بھی ایڈوانس ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔ ورلڈ بینک سے فنڈز موصول ہو رہے ہیں اور کام کو تیز کرنے کے لیے ادائیگیاں کی جا رہی ہیں۔
وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ضمیر عباسی کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ضمیر عباسی کی گمشدگی سے متعلق درخواست بھی دائر کی گئی تھی اور بعد میں لاہور میں درج درخواست کے بعد ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ضمیر عباسی نے تفتیشی افسر کے 128 سوالات کے مکمل جوابات دیے ہیں اور اب انہیں حراست میں رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔
عدالت نے استفسار کیا کہ ضمیر عباسی کو ضمانت دینے کی کیا وجہ ہے؟ جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ ان پر خرد برد کا کوئی الزام نہیں، جبکہ جن افراد کو فائدہ پہنچانے کا الزام لگایا جا رہا ہے انہیں ملزم ہی نہیں بنایا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مقدمہ غیر قانونی طور پر درج کیا گیا۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ اینٹی کرپشن قوانین کے تحت درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمیر عباسی کو **22 جون** کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ بی آر ٹی ییلو لائن منصوبہ **2019** میں شروع کیا گیا۔
سرکاری وکیل کے مطابق معاہدے میں تمام شرائط درج تھیں اور سب سے اہم معاملہ **70 فیصد ایڈوانس ادائیگیوں** کا ہے، جن کی مبینہ طور پر منظوری نہیں لی گئی اور ورلڈ بینک کو بھی اس حوالے سے آگاہ نہیں کیا گیا۔
عدالت نے ضمیر عباسی کی درخواست ضمانت پر سماعت **12 اگست** تک ملتوی کرتے ہوئے سرکاری وکیل کو آئندہ سماعت پر دلائل جاری رکھنے کی ہدایت کر دی۔
—
**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**ڈسکلیمر:** یہ خبر عدالتی کارروائی، وکلا کے دلائل اور سرکاری مؤقف پر مبنی ہے۔ مقدمے میں شامل الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں، اور تمام فریقین کو قانون کے مطابق صفائی کا حق حاصل ہے۔


