22

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری: وکیل کے خلاف درج مقدمات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کے قیام کا معاملہ، سندھ بار کونسل سے رجوع

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ ہائی کورٹ کے ایک وکیل کی مدعیت میں درج متعدد مقدمات کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی **مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT)** سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں عدالت نے معاملے کا جائزہ لیا۔ درخواست گزار **غلام اصغر سیال ایڈووکیٹ** نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل **وہاب بلوچ** نے مؤقف اختیار کیا کہ کسی وکیل کے خلاف شکایت کا معاملہ **بار کونسل** کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر محکمہ داخلہ سندھ نے جے آئی ٹی تشکیل دی ہے۔

وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ وکیل کے معاملے پر تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل نہیں دی جا سکتی، تاہم سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ قانون میں تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی کے قیام پر کوئی پابندی نہیں ہے۔

جسٹس مسرت ہلالی نے استفسار کیا کہ جے آئی ٹی میں کون کون شامل ہوگا؟ جس پر وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حساس ادارے کے نمائندے جے آئی ٹی کا حصہ ہوں گے۔

اس پر جسٹس مسرت ہلالی نے سوال کیا کہ حساس اداروں کا اس معاملے میں کیا کردار ہے؟ سرکاری وکیل نے بتایا کہ پولیس اور دیگر اداروں کے افسران بھی جے آئی ٹی میں شامل ہیں۔

دورانِ سماعت چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ معاملے کو **سندھ بار کونسل** کو بھیجا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بار کونسل اپنے قوانین کے مطابق جے آئی ٹی کے معاملے کا جائزہ لے۔

**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**ڈسکلیمر:** یہ خبر عدالتی کارروائی اور فریقین کے دلائل پر مبنی ہے۔ مقدمے سے متعلق حتمی فیصلہ عدالت کے تحریری حکم کے بعد واضح ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں