**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں **ٹنڈو آدم بائی پاس کے لیے حاصل کی گئی نجی اراضی کی مالیت کے تنازع** سے متعلق سندھ حکومت کی اپیل پر سماعت ہوئی۔
چیف جسٹس پاکستان **جسٹس یحییٰ آفریدی** کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دورانِ سماعت سرکاری وکیل **فیضان میمن** نے عدالت کو بتایا کہ بائی پاس منصوبے کے لیے **1996-98 میں 9 ایکڑ نجی اراضی** حاصل کی گئی تھی، جبکہ 2004 میں زمین کے معاوضے کی مد میں **13 لاکھ 45 ہزار روپے** ایوارڈ کیے گئے تھے۔
چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ ہائی کورٹ کے فیصلے میں کیا غلطی ہے؟ جس پر انہوں نے ریمارکس دیے کہ قانون بھی یہی کہتا ہے جو ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں قرار دیا ہے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا کہ زمین کی مالیت **300 روپے فی مربع فٹ** کے حساب سے طے ہو چکی تھی۔ انہوں نے سوال کیا کہ زمین کی قیمت کس تاریخ کے اعتبار سے مقرر کی گئی؟ سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ مالیت نوٹیفکیشن کے اجرا کی تاریخ کے مطابق طے کی گئی۔
اس پر چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ قانون کے ایک حصے پر عمل اور دوسرے حصے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ زمین **1997 میں حاصل کی گئی لیکن ادائیگی آج تک نہیں ہوئی، کیا آج بھی 1997 کے نرخوں پر ادائیگی چاہتے ہیں؟**
سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حاصل کی گئی زمین صنعتی علاقے کی نہیں بلکہ زرعی زمین ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل **عمر لاکھانی** نے عدالت کو بتایا کہ مختیار کار کی رپورٹ کے مطابق یہ زمین قیمتی علاقے میں واقع ہے۔
چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیے کہ ریکارڈ کے مطابق یہ اراضی صنعتی علاقے سے چند سو فٹ کے فاصلے پر ہے، اور صنعتی علاقے سے متصل زمین کی قیمت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
عدالت نے ہدایت کی کہ بتایا جائے زمین کی مالیت کن دستاویزات کی بنیاد پر طے کی گئی۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ تعمیرات کے دوران مسمار کی گئی پراپرٹیز کی مالیت اور کھدائی کے باعث ہونے والے نقصانات کے شواہد بھی فراہم کیے جائیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ تمام ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد سندھ حکومت کی اپیل پر حکم جاری کیا جائے گا یا آئندہ سماعت کی تاریخ مقرر کی جائے گی۔
—
**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**ڈسکلیمر:** یہ خبر عدالتی کارروائی اور فریقین کے دلائل پر مبنی ہے۔ حتمی فیصلہ عدالت کے حکم کے بعد واضح ہوگا۔


