**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – اسلام آباد کے سیکٹر **F-10** میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعے کے حوالے سے تھانہ شالیمار پولیس نے سینیٹر **مشتاق احمد**، **اخونزادہ حسین احمد یوسفزئی** اور دیگر افراد کے خلاف **انسدادِ دہشت گردی ایکٹ** سمیت اقدامِ قتل، کارِ سرکار میں مداخلت اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدمہ احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
تحقیقاتی حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی ویڈیوز، سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ تمام حقائق سامنے لائے جا سکیں اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تفتیش کے دوران سامنے آنے والے شواہد کی روشنی میں مزید قانونی کارروائی کی جائے گی۔
تاحال سینیٹر مشتاق احمد یا دیگر نامزد افراد کی جانب سے مقدمے کے حوالے سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
—
**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**ڈسکلیمر:** اس خبر میں شامل معلومات پولیس کی جانب سے درج مقدمے اور ابتدائی تفتیش پر مبنی ہیں۔ نامزد افراد کے خلاف الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں، اور انہیں قانون کے مطابق صفائی پیش کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔


