16

پیپلز پارٹی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کے مشن میں شامل ہے، رانا ثنااللہ

**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور **رانا ثناء اللہ** نے پاکستان پیپلز پارٹی پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پیپلز پارٹی ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر بدامنی اور ہنگامہ آرائی کے مشن میں شامل ہے۔

رانا ثناء اللہ کے مطابق پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے ایکشن کمیٹی کے ساتھ مل کر ایک چوک پر احتجاج کے دوران ہنگامہ آرائی کی، ٹائر جلائے، اور جب پولیس موقع پر پہنچی تو اس پر فائرنگ بھی کی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ حکومت کے پاس ان افراد کے نام موجود ہیں جو مبینہ طور پر اس واقعے میں ملوث ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

ایک اور بیان میں رانا ثناء اللہ نے الزام لگایا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت نے اپنے رکنِ قومی اسمبلی پر مبینہ قاتلانہ حملے سے متعلق متضاد اور غلط بیانی پر مبنی مؤقف اختیار کیا۔

ان کے مطابق ابتدا میں دعویٰ کیا گیا کہ رکنِ قومی اسمبلی پر قاتلانہ حملہ ہوا، تاہم جب میڈیکل معائنے کی بات کی گئی تو مؤقف تبدیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ انہیں مکے مارے گئے، بعد ازاں یہ بھی کہا گیا کہ مکا نہیں لگا بلکہ صرف گالیاں دی گئیں۔ رانا ثناء اللہ نے الزام عائد کیا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے اس معاملے پر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔

تاحال پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے رانا ثناء اللہ کے ان الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

**حمایت کریں:**
ہیومن رائٹس نیوز ورلڈ وائیڈ (HRNW) کی آزاد، غیرجانبدار اور عوامی مفاد پر مبنی صحافت کو جاری رکھنے کے لیے ہماری معاونت کریں:
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**ڈسکلیمر:** اس خبر میں شامل الزامات رانا ثناء اللہ کے بیانات پر مبنی ہیں۔ HRNW ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ متعلقہ فریق کا مؤقف سامنے آنے پر خبر کو اس کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں