**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (NCCIA) نے گلستانِ جوہر میں کارروائی کرتے ہوئے **زاہد منصوری** کے خلاف سوشل میڈیا پر مبینہ ریاست مخالف مواد کی اشاعت کے الزام میں **پیکا 2025** کے تحت مقدمہ درج کر لیا۔
ایجنسی کے مطابق کارروائی کے دوران زاہد منصوری کے قبضے سے دو موبائل فون ضبط کیے گئے۔ ایف آئی آر کے متن کے مطابق ابتدائی تکنیکی جانچ میں ضبط شدہ موبائل فون سے متعلقہ فیس بک اکاؤنٹ فعال پایا گیا، جس کے بعد سائبر کرائم کا مقدمہ درج کیا گیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ ضبط شدہ موبائل فون اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کو فرانزک اور تکنیکی تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے، جبکہ مقدمے کی مزید تفتیش جاری ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق کارروائی مبینہ طور پر **”MQM پاکستان میڈیا”** نامی فیس بک پیج سے منسلک سرگرمیوں کے سلسلے میں کی گئی، جہاں ریاست مخالف مواد شائع کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق زاہد منصوری، جو مبینہ طور پر **ایم کیو ایم پاکستان** کی سابق رابطہ کمیٹی کے رکن رہ چکے ہیں، سے تفتیش جاری ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا مہم اور دیگر روابط سے متعلق بیانات دیے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی متعلقہ عدالتی یا سرکاری سطح پر آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔
نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق مقدمہ **پیکا 2025** کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کر کے مزید قانونی کارروائی جاری ہے۔
—
### 🤝 HRNW کو سپورٹ کریں
اگر آپ انسانی حقوق، ڈیجیٹل حقوق، قانون کی بالادستی اور مستند صحافت کے فروغ میں ہمارا ساتھ دینا چاہتے ہیں تو HRNW کی حمایت کریں:
**[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)**
—
### ⚠️ اہم ہدایت (Important Note)
یہ خبر نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی، ایف آئی آر اور دیگر ابتدائی معلومات پر مبنی ہے۔ مقدمے میں شامل تمام الزامات تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے تابع ہیں، اور قانون کے مطابق ہر ملزم کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ ذرائع سے منسوب دعوؤں کی آزادانہ سرکاری یا عدالتی تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی۔ HRNW متوازن، ذمہ دارانہ اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر عمل پیرا ہے اور مزید تصدیق شدہ معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔


