**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** – بورڈ آف ریونیو پنجاب نے زمین کی تقسیم (Partition Cases) سے متعلق مقدمات میں غیر ضروری تاخیر کے خاتمے کے لیے اہم اقدام کرتے ہوئے تمام ڈپٹی کمشنرز کو **پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) ایکٹ 2026 کی دفعہ 142-A** پر فوری اور سختی سے عملدرآمد کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
نئے قانون کے تحت تحصیلدار اور نائب تحصیلدار اب تقسیمِ اراضی کے مقدمات کو بلاوجہ زیرِ التوا نہیں رکھ سکیں گے اور انہیں مقررہ مدت میں فیصلے کرنا ہوں گے۔
**پنجاب لینڈ ریونیو (ترمیمی) ایکٹ 2026 کے اہم نکات:**
**1۔ 60 دن کی لازمی مدت:**
تحصیلدار یا نائب تحصیلدار کو تقسیمِ اراضی کی درخواست یا متعلقہ کارروائی کے آغاز سے **60 دن کے اندر حتمی فیصلہ** کرنا ہوگا۔
**2۔ غیر ضروری التواء پر پابندی:**
بلاوجہ تاریخیں دینے اور مقدمات کو طول دینے کی حوصلہ شکنی کی جائے گی۔ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ **3 دن کا التواء** دیا جا سکے گا، جبکہ غیر ضروری تاخیر کی صورت میں فریقین سے اخراجات بھی وصول کیے جا سکتے ہیں۔
**3۔ کلکٹر کو خودکار منتقلی:**
اگر ریونیو افسر 60 دن کے اندر فیصلہ نہ کر سکے تو مقدمہ خودکار طور پر **کلکٹر (اسسٹنٹ کمشنر/سب ڈویژن)** کو منتقل کر دیا جائے گا۔
**4۔ افسران کے خلاف کارروائی:**
قانون پر عملدرآمد میں غفلت یا تاخیر کرنے والے افسران کے خلاف **پیڈا ایکٹ 2006** کے تحت کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔
بورڈ آف ریونیو کے اس اقدام کا مقصد زمین کی تقسیم سے متعلق مقدمات کو تیز کرنا، شہریوں کو بروقت انصاف فراہم کرنا اور ریونیو نظام میں شفافیت و کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔
**مزید انسانی حقوق، قانون اور قومی و عالمی خبروں کے لیے ملاحظہ کریں:**
[https://www.hrnww.com](https://www.hrnww.com)
**HRNW کی حمایت کریں:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر دستیاب معلومات اور جاری کردہ قانونی ہدایات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ قانون کے عملی نفاذ اور طریقہ کار سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے جاری کی جا سکتی ہیں۔ HRNW غیرجانبدار، مستند اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر کاربند ہے۔


