**دادو (ایچ آراین ڈبلیو)** – ضلع دادو کے شہر میہڑ سے آٹھویں جماعت کی تین طالبات اسکول جانے کے بعد مبینہ طور پر لاپتا ہو گئی ہیں، جس کے بعد پولیس نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ان کی تلاش کے لیے کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق طالبات کے والدین نے متعلقہ تھانے میں نان کاگنیز ایبل (این سی) درج کرا دی ہے، جبکہ لاپتا طالبات کے موبائل فون بھی بند ہیں، جس کے باعث اہل خانہ شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر **ایس ایس پی دادو ریٹائرڈ کیپٹن صدام حسین خاصخیلی** ہنگامی طور پر میہڑ پہنچ گئے، جہاں انہوں نے مقامی افسران کے ساتھ **ڈی ایس پی آفس** میں اجلاس کی صدارت کی اور واقعے کا تفصیلی جائزہ لیا۔
ایس ایس پی دادو نے لاپتا طالبات کے والدین سے بھی ملاقات کی اور واقعے سے متعلق ابتدائی معلومات حاصل کیں۔ پولیس کے مطابق تینوں طالبات کی ٹریسنگ اور محفوظ بازیابی کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ طالبات کی جلد اور محفوظ بازیابی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔
دریں اثنا، **آئی جی سندھ** نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے **ایس ایس پی دادو** سے تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ طالبات کی محفوظ اور جلد بازیابی کے لیے تمام ممکنہ وسائل استعمال کیے جائیں۔
**مزید انسانی حقوق، تعلیم اور قومی و عالمی خبروں کے لیے ملاحظہ کریں:**
[https://www.hrnww.com](https://www.hrnww.com)
**HRNW کی حمایت کریں:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر پولیس ذرائع اور دستیاب ابتدائی معلومات پر مبنی ہے۔ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور طالبات کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ مزید سرکاری معلومات سامنے آنے پر خبر کو اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے۔ HRNW غیرجانبدار، مستند اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر کاربند ہے۔


