**حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – کراچی کے علاقے کورنگی سی ایریا کی رہائشی خاتون کنول بنت محمد فاروق نے حیدرآباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں شادی کا جھانسہ دے کر ٹنڈوآدم بلا کر ایک ہفتے تک مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھا گیا اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
متاثرہ خاتون کے مطابق ٹنڈوآدم کے رہائشی عمران خیبر نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کیا اور شادی کی خواہش ظاہر کی، جس پر وہ 22 جولائی کو کراچی سے ٹنڈوآدم پہنچیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خیبر نے انہیں اپنے ساتھی، پولیس اہلکار محمد تقی، جو مبینہ طور پر تھانہ سٹی محمدی چوک میں تعینات ہے، کے گھر بلایا جہاں دونوں افراد نے انہیں سات روز تک زبردستی قید رکھا اور مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔
کنول نے دعویٰ کیا کہ وہ کسی طرح وہاں سے فرار ہو کر ٹنڈوآدم کی عدالت پہنچیں، جہاں وکلاء کو تمام واقعے سے آگاہ کیا۔ بعد ازاں وکلاء انہیں تھانہ سٹی لے گئے، جہاں ملزمان کے خلاف ابتدائی رپورٹ درج کرائی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی پولیس نے ان کے ساتھ مکمل تعاون نہیں کیا، نہ ہی ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق سول اسپتال ٹنڈوآدم میں ڈی این اے ٹیسٹ اور طبی معائنے کا عمل بھی مکمل نہیں ہونے دیا گیا۔
متاثرہ خاتون نے مزید دعویٰ کیا کہ مرکزی ملزم نے ان کی ویڈیو بھی بنائی اور دھمکی دی کہ اگر انہوں نے کسی کو واقعے سے آگاہ کیا تو انہیں قتل کر دیا جائے گا۔
کنول نے وزیراعلیٰ سندھ، آئی جی سندھ، ایس ایس پی سانگھڑ اور ایس ایس پی حیدرآباد سے اپیل کی ہے کہ انہیں جان و مال کا تحفظ فراہم کیا جائے، واقعے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور نامزد ملزمان کو فوری گرفتار کرکے قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
**مزید انسانی حقوق اور قومی و عالمی خبروں کے لیے ملاحظہ کریں:**
[https://www.hrnww.com](https://www.hrnww.com)
**HRNW کی حمایت کریں:**
[https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر متاثرہ خاتون کی پریس کانفرنس اور ان کے الزامات پر مبنی ہے۔ نامزد ملزمان یا متعلقہ پولیس حکام کا مؤقف اس خبر میں شامل نہیں ہو سکا۔ الزامات عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں، اور HRNW غیرجانبدار، مستند اور حقائق پر مبنی صحافت کے اصولوں پر کاربند ہے۔


