**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو):** سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) میں قوانین کی دھجیاں اڑانے اور مبینہ کرپشن کا ایک اور منہ بولتا ثبوت سامنے آ گیا۔ شہرِ قائد کے علاقے گلشنِ اقبال بلاک 3، سکیم 24 میں واقع رہائشی **پلاٹ نمبر A-304** پر رہائشی قوانین کو پسِ پشت ڈال کر غیر قانونی طور پر دکانیں اور شوروم تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
تصاویر اور موصولہ اطلاعات کے مطابق، مذکوره رہائشی پلاٹ پر تجارتی ساخت کی زیرِ تعمیر عمارت میں شٹر اور شیشے کے بڑے فریمز نصب کیے جا چکے ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ رہائشی زمین کو غیر قانونی طور پر کمرشل مقصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
علاقہ مکینوں اور معزز شہریوں نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایس بی سی اے کے متعلقہ افسران بالخصوص **شفیع مگسی** کی مبینہ سرپرستی اور کرپشن کو اس غیر قانونی تعمیرات کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایس بی سی اے کے ذمہ داران کی ناک کے نیچے سرِعام بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی ہو رہی ہے لیکن ادارہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے—*”کہاں ہیں ثنا خوانِ تقدیسِ مشرق؟”* جو شہر کی بہتری اور قانون کی بالادستی کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر ایسی سنگین خلاف ورزیوں پر آنکھیں مونھے بیٹھے ہیں۔


