9

سعید غنی پنجاب حکومت پربرس پڑے، سندھ کو جنت جیسی سرزمین قرار دے دیا

**کراچی (HRNW):** صوبائی وزیر محنت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی اور سینیٹر وقار مہدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے پنجاب کے وزراء کے بیانات پر ردعمل دیا اور سندھ حکومت کی کارکردگی، صحت کے شعبے، مالی معاملات اور سیاسی امور پر اپنا مؤقف پیش کیا۔

سعید غنی نے کہا کہ پنجاب کے وزراء نے پریس کانفرنس میں جو باتیں کیں، ان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ کبھی سندھ آئے ہی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کے نوجوان اراکین اسمبلی کے ایک وفد نے سندھ کا دورہ کیا تھا، وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات کی اور ان کا کہنا تھا کہ کراچی حقیقت میں ویسا نہیں جیسا انہیں بتایا جاتا ہے۔

انہوں نے کراچی پورٹ کے ریونیو سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بندرگاہیں وفاقی حکومت کے اختیار میں ہوتی ہیں، اس لیے پورٹ کے معاملات پر تنقید دراصل اپنی ہی وفاقی حکومت پر سوال اٹھانے کے مترادف ہے۔

سعید غنی نے سندھ کے شعبہ صحت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے عوام کو بھی بہتر علاج کی ضرورت ہے اور سندھ میں صحت کے شعبے میں موجود سہولیات سب کے لیے دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ **این آئی سی وی ڈی** میں دل کے تمام امراض کا علاج ایک ہی چھت کے نیچے کیا جاتا ہے اور یہ دنیا کے بہترین دل کے اسپتالوں میں شمار ہوتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ پنجاب سے ایک لاکھ 19 ہزار مریض این آئی سی وی ڈی آئے اور انہوں نے مفت علاج حاصل کیا، جبکہ دل کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کے لیے بھی پنجاب کے مریض سندھ آتے ہیں۔

صوبائی وزیر نے مالی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے اپنے وسائل سے 676 ارب روپے کی کلیکشن کی، جبکہ پنجاب نے 524 ارب روپے جمع کیے۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں دباؤ کے باوجود سندھ حکومت نے اخراجات کو قابو میں رکھا، جبکہ پنجاب کے اخراجات میں اضافہ ہوا۔

سعید غنی نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے وسائل سے 21 لاکھ گھر تعمیر کر رہی ہے اور خواتین کو ان گھروں کے مالکانہ حقوق دیے جا رہے ہیں، جبکہ پنجاب حکومت قرضوں کے ذریعے گھر بنانے کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔

کراچی کے پانی کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کراچی واحد شہر ہے جہاں پینے کا پانی 200 کلومیٹر دور سے لایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی اجازت کے بعد شہر میں سات ہائیڈرنٹس چلائے جا رہے ہیں۔

صوبوں کے قیام کے معاملے پر سعید غنی نے کہا کہ آئین کے مطابق نئے صوبے بنانے کا اختیار اسمبلیوں کے پاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نہیں بلکہ منتخب نمائندے کہتے ہیں کہ نئے صوبے کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سینیٹ نے پنجاب میں بھی انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے بنانے سے متعلق قرارداد منظور کی تھی۔

سیاسی معاملات پر گفتگو کرتے ہوئے سعید غنی نے مسلم لیگ (ن) کی حکومتوں، انتخابات اور ماضی کی سیاسی صورتحال پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت پر لیکچر دینے سے پہلے سیاسی جماعتوں کو اپنے ماضی کا جائزہ لینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے آمریتوں کے خلاف جدوجہد کی اور قربانیاں دیں۔ انہوں نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے آمریت کے سامنے جھکنے سے انکار کیا۔

سعید غنی نے انتخابات، مینڈیٹ اور سیاسی نمائندگی سے متعلق بھی سخت بیانات دیے اور کہا کہ اگر کسی نے عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی تو آواز بلند کی جائے گی۔

کشمیر کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کشمیری عوام کے حقِ حاکمیت، روزگار اور بنیادی مسائل کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کا بنیادی مسئلہ عوام کے ووٹ کی حرمت کو یقینی بنانا ہے۔

### **HRNW کو سپورٹ کریں**

جمہوریت، عوامی مسائل، انسانی حقوق اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا ساتھ دیں۔

**🌐 سپورٹ لنک:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### **اہم ہدایت (Important Note)**

یہ خبر صوبائی وزیر محنت و سماجی تحفظ سندھ سعید غنی کی پریس کانفرنس میں دیے گئے بیانات پر مبنی ہے۔ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** ان سیاسی دعوؤں یا مؤقف کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ خبر کا مقصد متعلقہ بیانات کو غیرجانبدار انداز میں عوام تک پہنچانا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں