9

بی آر ٹی ریڈ لائن کیس: سابق پی ڈی ضمیر عباسی نیب تحقیقات کے دائرے میں، جیل میں بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے کے گرفتار سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر **ضمیر عباسی** بھی قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحقیقات کے دائرے میں آ گئے ہیں۔ اینٹی کرپشن عدالت نے نیب کو جیل میں ضمیر عباسی کا بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

عدالتی حکم کے مطابق جیل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نیب حکام کے ساتھ مکمل تعاون کریں اور ضمیر عباسی کا بیان ریکارڈ کرانے کے انتظامات فراہم کریں۔

نیب کے مطابق ضمیر عباسی کو زیرِ تفتیش معاملات سے متعلق اہم معلومات اور حقائق کا علم ہے، جن کی بنیاد پر تحقیقات کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق نیب سرکاری و عوامی اراضی پر مبینہ قبضوں، بدعنوانی اور اختیارات کے مبینہ ناجائز استعمال سے متعلق تحقیقات کر رہا ہے۔ ان تحقیقات میں **بورڈ آف ریونیو کے افسران** اور دیگر افراد کے کردار کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

نیب کی تحقیقات میں **اسلامی ایجوکیشن ٹرسٹ، سحرانپور اور شپ یارڈ ہاؤسنگ سوسائٹی** سے متعلق معاملات بھی شامل ہیں، جن پر مزید کارروائی جاری ہے۔

ضمیر عباسی پہلے ہی **بی آر ٹی ریڈ لائن منصوبے** کے مقدمے میں عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں۔ ان کے خلاف منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے تحقیقات جاری ہیں، جن میں مبینہ طور پر ٹھیکیدار کو **8 ارب 50 کروڑ روپے پیشگی ادائیگی** کا معاملہ بھی شامل ہے۔

نیب حکام کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور اہم ملزمان کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں تاکہ مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور اختیارات کے استعمال سے متعلق حقائق سامنے لائے جا سکیں۔

### **HRNW کی حمایت کریں**

انسانی حقوق، انصاف، قانون کی حکمرانی اور عوامی مفاد سے متعلق مستند خبریں، تحقیقی رپورٹس اور آگاہی مہمات جاری رکھنے میں **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کا ساتھ دیں۔

**Support HRNW:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

### **اہم ہدایت (Important Note)**

یہ خبر عدالتی کارروائی، نیب کے مؤقف اور دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ خبر میں شامل الزامات اور تحقیقات زیرِ تفتیش ہیں اور ان کی حتمی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ **Human Rights News Worldwide (HRNW)** غیر جانبدار صحافتی اصولوں کے تحت تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف پیش کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں