6

لیاری گینگ وار کیس: انسداد دہشتگردی عدالت نے ملا نثار کو دو مقدمات میں بری کردیا

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – انسداد دہشتگردی عدالت (جیل کمپلیکس) نے لیاری گینگ وار کے ملزم **ملا نثار** کو اغوا، قتل اور پولیس مقابلے سے متعلق دو مقدمات میں شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا ہے۔

عدالت نے تفتیش میں سنگین نقائص کی نشاندہی کرتے ہوئے متعلقہ تفتیشی افسران سے ناقص تفتیش پر وضاحت بھی طلب کر لی ہے۔

ملزم ملا نثار کے خلاف مقدمات **لیاقت آباد سپر مارکیٹ تھانے** اور **کلری تھانے** میں درج تھے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ کے اہم گواہان ملزم کی شناخت سے متعلق قابل اعتماد شہادت پیش نہیں کر سکے۔

عدالت نے کہا کہ وقوعے کے تقریباً **دس سال بعد کرائی گئی شناخت پریڈ** کو قابل اعتماد شہادت نہیں مانا جا سکتا۔ عدالت کے مطابق پولیس کے سامنے ملزم کا مبینہ اعتراف جرم بھی قابل قبول نہیں کیونکہ اعترافی بیان مجسٹریٹ کے روبرو ریکارڈ نہیں کیا گیا۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ طبی شواہد صرف موت یا زخموں کی نوعیت کی تصدیق کر سکتے ہیں، تاہم حملہ آور کی شناخت ثابت نہیں کر سکتے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ واقعے میں تین افراد کی موت ایک حقیقت ہے، لیکن صرف کسی شخص کی موت واقع ہونا کسی ملزم کے خلاف جرم ثابت کرنے کے لیے کافی نہیں۔

عدالت نے قرار دیا کہ مقدمات میں پیش کیے گئے شواہد متضاد ہیں جبکہ تفتیش کا طریقہ کار بھی نامناسب رہا۔ جج **ایاز مصطفیٰ جوکھیو** نے تفتیشی افسران کو حکم دیا کہ وہ ناقص تفتیش سے متعلق وضاحت پیش کریں۔

استغاثہ کے مطابق **محمد عرفان کے اغوا** کا مقدمہ سپر مارکیٹ تھانے میں درج کیا گیا تھا، جبکہ محمد عرفان کی لاش لیاری سے ملی تھی۔

پراسیکیوشن کے مطابق **23 اپریل کو لیاری میں کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا**، جس میں رینجرز کے **ڈی ایس آر حنیف تنولی شہید** اور ایک راہگیر خاتون **شانتی کشن** ہلاک ہوئی تھیں۔

عدالت نے تمام شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ملزم ملا نثار کو دونوں مقدمات میں بری کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

**حمایت کریں (Support HRNW):**
انسانی حقوق، منصفانہ عدالتی عمل، قانون کی حکمرانی اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی معاونت کریں۔
**Support Link:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر انسداد دہشتگردی عدالت کے فیصلے اور عدالتی ریکارڈ میں موجود دلائل پر مبنی ہے۔ عدالت کے فیصلے کے مطابق ملزم کو شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کیا گیا ہے۔ **HRNW** غیر جانبدار صحافت، عدالتی عمل اور تمام فریقین کے قانونی حقوق کے احترام کا پابند ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں