**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سندھ ہائیکورٹ نے سات افراد کو گرفتار کرکے مبینہ طور پر افغان کیمپ منتقل کرنے کے خلاف دائر درخواست پر **ڈی جی نادرا، چیف سیکرٹری سندھ، آئی جی سندھ اور ایس ایچ او سہراب گوٹھ** کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 3 اگست تک تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل **ریاض عباسی ایڈووکیٹ** نے عدالت کو بتایا کہ پولیس نے **محمد جاوید، ان کی اہلیہ اور پانچ بیٹیوں** کو قومی شناختی کارڈ بلاک ہونے کے معاملے پر گرفتار کیا۔
وکیل کے مطابق سیشن جج کی ہدایت پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے متعلقہ تھانے پر چھاپہ بھی مارا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس نے مؤقف اختیار کیا کہ گرفتاری کے تقریباً ایک گھنٹے بعد مذکورہ افراد کو افغان کیمپ منتقل کر دیا گیا تھا۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محمد جاوید کے قومی شناختی کارڈ بلاک کیے جانے کے خلاف مقدمہ گزشتہ **8 ماہ سے ملیر کی عدالت** میں زیرِ سماعت ہے۔
ریاض عباسی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ محمد جاوید اور ان کے والدین پیدائشی پاکستانی شہری ہیں۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ جاوید کو ان کی فیملی سمیت افغانستان منتقل کیا جا سکتا ہے۔
وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ افراد کی مبینہ افغانستان منتقلی روکنے کے لیے حکم امتناعی جاری کیا جائے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ جب حکم امتناعی کی باقاعدہ درخواست ہی دائر نہیں کی گئی تو زبانی استدعا پر حکم کیسے جاری کیا جا سکتا ہے۔ سندھ ہائیکورٹ نے زبانی حکم امتناعی کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
**حمایت کریں (Support HRNW):**
انسانی حقوق، شہری آزادیوں، قانونی تحفظ، انصاف تک رسائی اور ذمہ دار صحافت کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی معاونت کریں۔
**Support Link:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر سندھ ہائیکورٹ کی کارروائی اور فریقین کے دلائل پر مبنی ہے۔ معاملہ زیرِ سماعت ہے، جبکہ تمام فریقین کو قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ **HRNW** غیر جانبدار صحافت، انسانی حقوق اور قانونی طریقہ کار کے احترام کا پابند ہے۔


