**کراچی (HRNW)** – سندھ ہائیکورٹ نے جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں شریک ملزم **مشتاق احمد** کے ریڈ وارنٹ واپس لینے اور نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ECL) سے خارج کرنے کی درخواست پر وفاقی وزارت داخلہ، ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹ اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے تمام متعلقہ فریقین سے **18 اگست تک جواب طلب** کر لیا ہے۔
درخواست گزار مشتاق احمد کے وکیل **امان اللہ** نے عدالت کو بتایا کہ ان کے مؤکل 2022 میں بیرون ملک سے واپس پاکستان آئے تھے اور متعلقہ عدالت میں پیش بھی ہوئے۔
وکیل کے مطابق درخواست گزار کی پیشی کے باوجود ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہے اور گرفتاری کے لیے انٹرپول کے ذریعے ریڈ نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔
درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کے عدالت میں پیش ہونے کے بعد **نیب نے 2024 میں احتساب عدالت میں ریڈ نوٹس واپس لینے سے متعلق رپورٹ جمع کرائی تھی**، تاہم اس کے باوجود نہ تو درخواست گزار کا نام ای سی ایل سے خارج کیا گیا اور نہ ہی انٹرپول کے ریڈ نوٹس واپس لیے گئے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ مشتاق احمد کا نام ای سی ایل سے خارج کیا جائے اور انٹرپول کے ذریعے جاری کیے گئے ریڈ نوٹس واپس لینے کے احکامات جاری کیے جائیں۔
سندھ ہائیکورٹ نے درخواست پر سماعت کے بعد متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کر لیا ہے۔
**حمایت کریں (Support HRNW):**
انسانی حقوق، انصاف تک رسائی، قانون کی حکمرانی اور شفاف عدالتی نظام کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی معاونت کریں۔
**Support Link:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر سندھ ہائیکورٹ کی کارروائی اور درخواست گزار کے وکیل کے دلائل پر مبنی ہے۔ معاملہ زیرِ سماعت ہے اور عدالت کے حتمی فیصلے کا انتظار ہے۔ تمام فریقین کو قانون کے مطابق اپنا مؤقف پیش کرنے کا حق حاصل ہے۔ **HRNW** غیر جانبدار صحافت، عدالتی عمل اور قانونی حقوق کے احترام کا پابند ہے۔


