5

کراچی ایئرپورٹ پر مبینہ ٹیکس چوری کیس، سندھ ہائی کورٹ نے کارگو ایجنٹ اسد کی ضمانت منظور کرلی

**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سندھ ہائی کورٹ نے کراچی ایئرپورٹ پر کروڑوں روپے مالیت کے الیکٹرانکس سامان کی مبینہ طور پر بغیر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس ادائیگی کلیئرنس کے مقدمے میں کارگو ایجنٹ ملزم **اسد** کی ضمانت منظور کر لی ہے۔

عدالت نے ملزم کو ہر مقدمے میں **دو لاکھ روپے کے مچلکے** جمع کروانے کا حکم دیا۔ مقدمے کی سماعت جسٹس **عدنان اقبال چوہدری** نے کی۔

سرکاری وکیل کے مطابق کسٹمز حکام نے **جیریز ڈناٹا** کے کارگو ہینڈلنگ کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیں، جس دوران الزام عائد کیا گیا کہ بعض افسران اور اہلکاروں کی مبینہ ملی بھگت سے کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر سامان کلیئر کیا گیا۔

سرکاری وکیل کے مطابق مبینہ طور پر **54 کروڑ 93 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے آئی فونز، پلے اسٹیشنز اور میک بکس** پر تقریباً **35 کروڑ روپے کی ڈیوٹی اور ٹیکس** واجب الادا تھے۔ کسٹمز حکام نے اس معاملے میں ملزمان کے خلاف مجموعی طور پر پانچ مقدمات درج کیے۔

عدالت کو بتایا گیا کہ تحقیقات کے مطابق کسٹمز افسران دستاویزات کی تصدیق کے بعد انہیں مزید کارروائی کے لیے جیریز کے عملے کو فراہم کرتے تھے۔ سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ملزمان نے جیریز اور کسٹمز کے نظام کے درمیان رئیل ٹائم رابطہ نہ ہونے کی خامی سے مبینہ فائدہ اٹھایا۔

سرکاری وکیل کے مطابق مخصوص بلز کو حذف کرکے کسٹمز سسٹم میں اپلوڈ نہ کرنے سے درآمدی سامان مبینہ طور پر کسٹمز کلیئرنس نظام سے پوشیدہ رہا، جبکہ غیر متعلقہ گڈز ڈکلیئریشن اور چالان استعمال کرکے کنسائنمنٹس جیریز کے شیڈ سے باہر نکالے گئے۔

عدالت نے سماعت کے دوران مشاہدہ کیا کہ درخواست گزار کی ذمہ داری کسٹمز سسٹم میں الیکٹرانک انٹریز فائل کرنے تک محدود تھی۔ جسٹس عدنان اقبال چوہدری نے کہا کہ چار مقدمات میں الیکٹرانک انٹریز کے لیے دیگر کارگو ایجنٹس کے نام موجود ہیں۔

عدالت نے مزید قرار دیا کہ مبینہ طور پر غائب ہونے والے سامان کے ڈلیوری نوٹس یا گیٹ پاسز پر بھی درخواست گزار کے دستخط موجود نہیں ہیں، جبکہ درخواست گزار کو فائدہ پہنچانے والے افراد سے رقم کی منتقلی بھی تاحال ثابت نہیں ہو سکی۔

عدالت کے مطابق دورانِ تفتیش درخواست گزار کا نام لینے والے دیگر ملزمان کی بھی ضمانت منظور ہو چکی ہے، جس بنیاد پر ملزم اسد کی ضمانت منظور کی گئی۔

**حمایت کریں (Support HRNW):**
انسانی حقوق، شفاف احتساب، قانون کی حکمرانی اور عوامی آگاہی کے فروغ کے لیے **Human Rights News Worldwide (HRNW)** کی معاونت کریں۔
**Support Link:** [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

**اہم ہدایت (Important Note):**
یہ خبر سندھ ہائی کورٹ کی کارروائی اور فریقین کے دلائل پر مبنی ہے۔ مقدمے میں شامل الزامات زیرِ سماعت ہیں اور تمام ملزمان قانون کی نظر میں اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں جب تک عدالت سے جرم ثابت نہ ہو جائے۔ **HRNW** غیر جانبدار صحافت، عدالتی عمل اور تمام فریقین کے قانونی حقوق کا احترام کرتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں