5

5 اگست کو یومِ سیاہ، کراچی سمیت ملک بھر میں احتجاج ہوگا، عمران خان کی رہائی تک تحریک جاری رہے گی: حلیم عادل شیخ

کراچی(ایچ آراین ڈبلیو) پاکستان تحریک انصاف سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ نے انصاف ہاؤس کراچی میں اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 5 اگست وہ سیاہ دن ہے جب پاکستان کے مقبول ترین عوامی لیڈر عمران خان کو ناحق گرفتار کیا گیا اور اس بربریت اور ناانصافی کی اندھیری رات کو تین سال گذر گئے ہیں اسی مناسبت سے5 اگست کو کراچی سمیت سندھ کے تمام اضلاع اور تحصیل سطح تک پرامن احتجاج کیا جائے گا جبکہ خیبرپختونخوا میں مرکزی جلسہ منعقد ہوگا۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر، پی ٹی آئی سندھ کے نائب صدر میر منظور کھوسو، کراچی صدر ٹائون کے چیئرمین منصور احمد شیخ، پی ٹی آئی سندھ کے ترجمان محمد علی بلوچ، کراچی کی ترجمان فوزیہ صدیقی، پی ٹی آئی رہنما ایڈووکیٹ خان زمان، نوید صدیقی، راشد عباسی، ولید ہاشمی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ پوری جولائی میں عوامی رابطہ مہم چلائی گئی اور اب 5 اگست کو ثابت کریں گے کہ تحریک انصاف ایک ہے، ہمارا ایک لیڈر، ایک پارٹی اور ایک نظریہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے اندر اختلافات پیدا کرنے کی کوششیں دشمن کی سازش ہیں، ہمارا اتحاد ہی عمران خان کی رہائی کی ضمانت بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کی آزادی اور عمران خان کی رہائی کے لیے پوری قوم گھروں سے نکلے گی کیونکہ پاکستانی عوام آج بھی عمران خان کے ساتھ کھڑی ہے۔

انہوں نے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، مگر آج اسی شہ رگ کو کاٹا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں حالات انتہائی سنگین ہیں، عوام پر طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں پاکستان کے مؤقف کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہیں کیونکہ تاریخی طور پر انتہائی کم ٹرن آؤٹ رہا اور عوام نے انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ٹرن آؤٹ پانچ فیصد سے بھی کم رہا، لہٰذا ایسے نتائج کو کشمیری عوام کی حقیقی آواز نہیں کہا جا سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان “نورا کشتی” جاری ہے، گلگت بلتستان پیپلز پارٹی جبکہ کشمیر مسلم لیگ (ن) کے حوالے کیا گیا۔ اگر اقتدار انہی جماعتوں کو دینا تھا تو انتخابات کرانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔

انہوں نے آزاد کشمیر میں عوامی مارچ پر فائرنگ، شہادتوں اور زخمیوں کے واقعات کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی آزاد، شفاف اور غیر جانبدار عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، ذمہ دار اہلکاروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے، کشمیر کی موجودہ حکومت مستعفی ہو، تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے کشمیر میں قومی حکومت تشکیل دی جائے، باقی دو مراحل کے انتخابات منسوخ کر کے پورے آزاد کشمیر میں ایک ہی روز آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے جائیں، طاقت کا استعمال فوری بند کیا جائے، عوامی ایکشن کمیٹی کے جائز مطالبات تسلیم کیے جائیں اور کشمیری عوام سے کیے گئے تمام معاہدوں پر عملدرآمد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان عالمی سطح پر تنازعات میں ثالثی کر سکتا ہے تو کشمیر کے مسئلے پر بھی مذاکرات کی راہ اختیار کی جائے۔

حلیم عادل شیخ نے بلاول بھٹو زرداری کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ تشدد، ڈنڈے اور تھپڑ کی سیاست کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ بلاول بھٹو اپنے الفاظ واپس لیں، تحریک انصاف کے کارکن دھمکیوں اور تشدد سے خوفزدہ ہونے والے نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) فارم 47 کی حکومت ہے تو پھر پیپلز پارٹی نے اسی حکومت کو ووٹ کیوں دیا، عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا بند کیا جائے۔

کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے حلیم عادل شیخ نے سہراب گوٹھ کی شفیق کالونی میں لیاری ندی میں چار سالہ بچے شاویز کے ڈوبنے اور اسے بچانے کی کوشش میں نوجوان گلاب کی جان جانے کے واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود بچے کو ندی سے نہیں نکالا جا سکا، جو سندھ حکومت، کے ایم سی، ریسکیو 1122، میئر کراچی، سہراب گوٹھ اور گلبرگ ٹاؤن کی انتظامیہ کی سنگین نااہلی کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا کہ 63 ارب روپے کے ایم سی کے بجٹ اور کراچی کے لیے مختص اربوں روپے کے باوجود شہر کے نالے گندگی سے بھرے پڑے ہیں، لیاری ندی خطرناک صورت اختیار کر چکی ہے جبکہ کچھ روز قبل مواچھ گوٹھ میں سات سالہ جہانگیر بھی مین ہول میں گر کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں گٹروں کے ڈھکن تک موجود نہیں، سڑکیں تباہ ہیں، پانی، بجلی اور گیس کی شدید قلت ہے۔

انہوں نے سندھ میں صحت کی صورتحال پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ولیکا اسپتال میں درجنوں بچوں میں ایڈز کی تشخیص انتہائی تشویشناک ہے۔ سندھ بھر میں ایڈز پھیل رہا ہے جبکہ صحت، تعلیم اور امن و امان کا نظام تباہ ہو چکا ہے، جس کی ذمہ دار سندھ حکومت کی نااہلی ہے۔

حلیم عادل شیخ نے کہا کہ کےفور، گرین لائن اور کراچی کے دیگر بڑے ترقیاتی منصوبے عمران خان کی حکومت نے دیے جبکہ کراچی کے بڑے نالوں کی صفائی بھی عمران خان کے دور میں ہوئی تھی۔

انہوں نے مہنگائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کم ہونے کے باوجود حکومت مسلسل عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیٹرول 1.63 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 1.55 روپے فی لیٹر مزید مہنگا کر دیا ہے، جبکہ صرف جولائی کے دوران پیٹرول 38 روپے اور ڈیزل 79 روپے فی لیٹر مہنگا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر 125 روپے سے زائد لیوی اور دیگر ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، جس سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش اور روزمرہ استعمال کی تمام اشیاء مزید مہنگی ہوں گی۔

انہوں نے جیل میں عالیہ حمزہ پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کرائی جائیں، فوری ایف آئی آر درج کی جائے، ذمہ دار جیل اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے اور تمام سیاسی قیدیوں کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔

اس موقع پر پی ٹی آئی کراچی کے صدر راجہ اظہر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں ظلم پر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی صرف ایک دوسرے کو فارم 47 کی پیداوار قرار دینے میں مصروف ہیں جبکہ کشمیری عوام کی آواز بننے والا کوئی نہیں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے انتخابی مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور فارم 45 موجود ہیں، اس لیے آئین اور قانون کے مطابق فیصلے ہونے چاہییں۔

راجہ اظہر نے کہا کہ کراچی کے تین بڑے اور 540 چھوٹے نالے گندگی سے بھرے ہوئے ہیں۔ گجر نالہ، محمود آباد نالہ اور اورنگی نالہ فوری صفائی کے منتظر ہیں۔ گزشتہ سال نالوں کی صفائی کے لیے 96 کروڑ روپے جبکہ رواں سال 6 ارب روپے مختص کیے گئے، مگر شہر کی صورتحال بدستور خراب ہے۔ محکمہ موسمیات بارشوں کی پیش گوئی کر چکا ہے، اگر فوری صفائی نہ کی گئی تو کراچی کو شدید اربن فلڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں اسٹریٹ کرائم، بچوں کے اغوا، مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی مسلسل بڑھتی قیمتوں نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ اگر عمران خان رہا ہوئے تو ملک میں حقیقی احتساب کا آغاز ہوگا، اسی خوف کی وجہ سے حکمران بوکھلاہٹ کا شکار ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں