**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سندھ ہائی کورٹ نے کسٹمز افسران کے خلاف کرپشن اور اسمگلنگ میں مبینہ سہولت کاری کے مقدمے میں **کسٹمز افسر حافظ محمد یونس** کی بریت کی درخواست پر سماعت نہ ہونے کے معاملے پر ٹرائل کورٹ کو **ایک ماہ کے اندر فیصلہ** کرنے کی ہدایت جاری کر دی۔
عدالت نے قرار دیا کہ **وفاقی اینٹی کرپشن عدالت** تمام متعلقہ فریقین کو سماعت کا مکمل موقع فراہم کرنے کے بعد درخواست پر قانون کے مطابق فیصلہ کرے۔
سندھ ہائی کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ **ہر ملزم کو آئین کے تحت منصفانہ ٹرائل کا بنیادی حق حاصل ہے۔**
درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ **ایف آئی اے اینٹی کرپشن سرکل** نے کسٹمز افسران کے خلاف کرپشن اور اسمگلنگ میں مبینہ سہولت کاری کا مقدمہ درج کیا تھا، جبکہ درخواست گزار کا نام شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر چالان میں شامل کیا گیا۔
وکیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے سابقہ حکم میں درخواست گزار کا نام شامل نہ ہونے کے باعث ٹرائل کورٹ میں ان کی بریت کی درخواست پر سماعت نہیں ہو رہی تھی۔
عدالت نے واضح کیا کہ اس کا سابقہ حکم صرف **زیر التوا درخواستوں کی جلد سماعت** کے لیے تھا اور اس کا مقصد کسی بھی ملزم کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کو کارروائی سے روکنا نہیں تھا۔
عدالت نے مزید قرار دیا کہ **آئینی دائرہ اختیار کے تحت ہائی کورٹ عمومی طور پر زیر التوا فوجداری کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی**، تاہم انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے ٹرائل کورٹ کو مقررہ مدت میں درخواست نمٹانے کی ہدایت دی جا سکتی ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر عدالتی کارروائی اور عدالت میں پیش کیے گئے مؤقف پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) مقدمے میں عائد الزامات یا فریقین کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ مقدمہ زیرِ سماعت ہے، اور حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت شواہد اور قانونی کارروائی کی بنیاد پر کرے گی۔


