15

پنجاب میں لاکھوں بچے اب بھی تعلیم سے محروم، حکومت اصلاحات پر کام کر رہی ہے: رانا سکندر حیات

**لاہور (ایچ آراین ڈبلیو)** – وزیر تعلیم پنجاب **رانا سکندر حیات** نے کہا ہے کہ صوبے میں اب بھی **لاکھوں بچے تعلیم سے محروم** ہیں اور انہیں اسکولوں تک لانے کے لیے حکومت مختلف اصلاحاتی اقدامات پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ **دانش اسکول سسٹم** پر اخراجات بہت زیادہ ہیں، جس کے باعث گزشتہ **15 برسوں میں صرف 40 ہزار طلبہ** ان اداروں میں داخلہ حاصل کر سکے۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پنجاب میں قائم کیے گئے **کمپری ہینسو اور پائلٹ اسکول** اب کس حالت میں ہیں۔

صوبائی وزیر تعلیم کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان تعلیمی فرق کم کرنے کے لیے حکومت نے **پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP)** ماڈل اختیار کیا ہے، جس کے تحت **نواز شریف اسکول آف ایمیننس** میں اوسطاً **112 فیصد داخلے** ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

رانا سکندر حیات نے بتایا کہ حکومت نے سرکاری اسکولوں میں موجود **15 لاکھ جعلی (گھوسٹ) طلبہ** کا ریکارڈ ختم کر دیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت بھی پنجاب کے تقریباً **25 فیصد بچے اسکولوں سے باہر** ہیں، جبکہ بڑی تعداد ہائی اسکول کی سطح پر پہنچ کر تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہے۔

وزیر تعلیم کے مطابق آؤٹ سورس کیے گئے اسکولوں کو ہدف دیا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں **تعلیم سے محروم کم از کم 5 فیصد بچوں کو اسکولوں میں داخل کریں** تاکہ شرحِ داخلہ میں اضافہ اور تعلیمی رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔

🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)

⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر وزیر تعلیم پنجاب کے سرکاری بیان پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) بیان کردہ اعداد و شمار یا حکومتی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ تعلیمی اصلاحات اور ان کے نتائج کا حتمی جائزہ متعلقہ سرکاری ریکارڈ اور آزادانہ مطالعات کی روشنی میں لیا جانا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں