مہران یونیورسٹی کا طالب علم عبدالعزیر نظامانی غائب، تاحال کچھ پتہ نہیں

حیدرآباد (ایچ آراین ڈبلیو) مہران یونیورسٹی کے شاگرد عبدالعزیر نظامانی کو تا حال بازیاب نہیں کرایا جاسکا وہ اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ پاکستان انجینئرنگ کونسل کیلئے بائیومیڈیکل کی اسناد لینے گئے تھے وہ ایک انتہائی قابل ،پانچ وقت کے نمازی اور چہرے پر سنت سجائی ہوئی تھی جن کا کسی سیاسی ، مذہبی تنظیم کبھی کوئی تعلق نہیں رہا اور ان کی ہمیشہ سے یہ ہی خواہش رہی کہ وہ فوج میں کمیشن حاصل کریں انکو ان کی تعلیمی قابلیت کے باعث تین ملکوں مارسیش ، کمپالہ اورنیپال سے یورو لوجی کے شعبے میں آفر لیٹر موصول ہوئے اور وہ 24مئی کو کھٹمنڈو نیپال میں یورولوجی ڈیپارٹمنٹ میں اپنی نوکری جوائن کرنے جارہے تھے جس پروہ بے انتہا خوش تھے اسی بنیاد پر وہ مہران یونیورسٹی میں وہ اپنی تعلیمی اسناد کیلئے گئے تھے جہاں پر پر اسرار طور پر غائب ہوگئے اور ان کا فون مسلسل بند جارہا ہے ، بچے کی ماں دل کی مریضہ ہیں وہ اس صدمے کے باعث اسپتال پہنچ چکی ہیں جبکہ جامشورو اور مہران یونیورسٹی انتظامیہ کوئی تعاون نہیں کررہی اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی ایکشن لیا جارہا ہے جسکے باعث یونیورسٹی میں پڑھنے والے دیگر طالب علم بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں ہماری وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ، وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف اور فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر سے درد مندانہ اپیل ہے کہ اس واقع کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قوم کے اس ہونہار فرزند کو اپنا بیٹا سمجھتے ہوئے اسے فی الفور بازیاب کرایا جائے ۔ ان خیالات کا اظہار آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین سی بی اے کے صوبائی جنرل سیکریٹری اقبال احمد خان ، محمد حنیف خان، الادین قائمخانی، نور احمد نظامانی نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صدمے اور دکھ سے جہاں عبدالعزیز نظامانی کی فیملی کے دیگر افراد متاثر ہیں وہیں انکے دادا اور ہماری یونین آل پاکستان واپڈا ہائیڈڑو الیکٹرک ورکرز یونین (سی بی اے) کے صوبائی چیئرمین ومرکزی صدر عبداللطیف نظامانی بھی بہت زیادہ پریشانی کا شکار ہیں کیونکہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے انکی بازیابی کیلئے ابھی تک کوئی بھی عملی کاروائی عمل میں نہیں لائی جاسکی، ہمارے ملازمین جو صدر یونین کو نہ صرف ایک باپ کی طرح عزت دیتے ہیں بلکہ انکے ہر دکھ درد میں بھی برابر کے شریک ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ہماری یونین کے جام شورو سب ڈویژن یونٹ کی جانب سے ابتدائی طور پر اس واقع کے خلاف احتجاج بھی ریکارڈ کرایا ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اگر عبدالعزیر نظامانی کو فی الفور بازیاب نہیں کرایا تو یونین پورے صوبے کی سطح پر احتجاج کریگی اور اس احتجاج کے دائرے کو ملکی سطح پر بھی بڑھایا جاسکتا ہے جس کے ذمہ داری مہران یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور جامشورو کی سول انتظامیہ پر عائد ہوگی انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے ایک اعلیٰ تعلیمی ادارے میں اس طرح کا واقعہ کا ہوجانا انتظامیہ کی گڈ گورنس پر سوالیہ نشان ہے وہیں زیر تعلیم طلباء بھی خود کو غیر محفوظ تصور کررہے ہیں یونیورسٹی انتظامیہ کا فوری ایکشن نہ لینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہاں اس طرح کے واقعات انتظامیہ کی جانب سے نوٹس نہ لینے کے باعث جنم لیتے رہتے ہیں لہٰذا ، ہماری ارباب اختیارات سے بھرپور انداز میں گذارش ہے کہ وہ عبدالعزیرنظامانی کو بازیاب کراکے امن و امان کی صورت حال کو برقرار رکھتے ہوئے انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے تاکہ اہل خانہ جس اذیت وتکلیف کا شکار ہیں اسکا ازالہ ممکن ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں