**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – وفاقی آئینی عدالت میں **اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز** کی نظرثانی درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے دوران عدالت نے کم عمری کی شادی سے متعلق قانونی نکات کا جائزہ لیا۔
سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیے کہ **قانون میں کم عمری کی شادی کے خلاف سزا کا ذکر موجود ہے، تاہم نکاح منسوخ کرنے کا واضح اختیار قانون میں موجود نہیں**۔
وفاقی آئینی عدالت نے معاملے پر **اٹارنی جنرل پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب** کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مزید کارروائی ملتوی کر دی۔
کیس میں کم عمری کی شادی، مذہبی تبدیلی، ازدواجی حقوق اور متعلقہ قانونی شقوں سے متعلق اہم آئینی و قانونی سوالات زیرِ بحث آئے۔
عدالت کی جانب سے جاری کارروائی کے بعد مزید قانونی پیش رفت آئندہ سماعت میں سامنے آئے گی۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر عدالتی کارروائی اور دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) عدالت میں زیرِ سماعت مقدمے کے تمام قانونی پہلوؤں یا فریقین کے مؤقف کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ حتمی فیصلہ عدالت کے آئندہ احکامات کے بعد ہی واضح ہوگا۔


