**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان (TIP) نے سندھ کے **سالانہ ترقیاتی پروگرام (Annual Development Programme – ADP) برائے مالی سال 2026-27** کی تیاری کے دوران مبینہ ضابطہ جاتی بے قاعدگیوں اور **بجٹ بک میکنگ سسٹم (BBMS)** میں ممکنہ رد و بدل سے متعلق شکایت پر فوری، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے **17 جولائی 2026** کو جاری کیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ادارے کو موصول ہونے والی شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ (P&D) ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے متعارف کرائے گئے BBMS کے ذریعے تیار کردہ ADP میں بعض محکموں کی منظور شدہ ترقیاتی اسکیموں اور بجٹ الاٹمنٹس میں مبینہ طور پر غیر مجاز تبدیلیاں کی گئیں۔
خط کے مطابق BBMS کا مقصد بجٹ سازی کے عمل کو ڈیجیٹل، شفاف اور قابلِ نگرانی بنانا تھا، تاہم شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بجٹ منظوری کے بعد **کلچر، ٹورازم، اینٹیکوئٹیز اینڈ آرکائیوز ڈیپارٹمنٹ** نے 18 جون 2026 کو تحریری طور پر نشاندہی کی کہ BBMS میں اپ لوڈ کیا گیا ترقیاتی پورٹ فولیو اس پورٹ فولیو سے مختلف تھا جو متعلقہ محکمے نے منظوری کے لیے جمع کرایا تھا۔
دستاویز کے مطابق اس معاملے پر **7 جولائی 2026** کو چیف سیکریٹری سندھ نے دو جونیئر افسران کو معطل کیا، تاہم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ اتنے بڑے مالی اور انتظامی عمل میں صرف ماتحت افسران کو ذمہ دار قرار دینا کافی نہیں، بلکہ بجٹ سازی کے پورے عمل کا **فرانزک اور انتظامی آڈٹ** کیا جانا چاہیے تاکہ اصل ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
TIP نے اپنے ابتدائی جائزے (Prima Facie) میں کہا ہے کہ شکایت میں لگائے گئے الزامات بادی النظر میں قابلِ غور معلوم ہوتے ہیں، اس لیے P&D بورڈ کو BBMS کے تمام الیکٹرانک ریکارڈ، آڈٹ ٹریل، لاگ فائلز اور منظوریوں کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ مبینہ تبدیلیاں کس مرحلے پر، کس اختیار کے تحت اور کس مقصد کے لیے کی گئیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے وزیرِ اعلیٰ سندھ سے مطالبہ کیا ہے کہ:
* P&D بورڈ کے ذریعے مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ انکوائری کرائی جائے۔
* BBMS کے الیکٹرانک ریکارڈ، آڈٹ ٹریل اور ڈیجیٹل لاگز کا فرانزک جائزہ لیا جائے۔
* الزامات ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افسران اور متعلقہ حکام کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
* صرف جونیئر افسران تک کارروائی محدود رکھنے کے بجائے فیصلہ سازی کے پورے عمل کا احتساب کیا جائے۔
خط کی نقول چیف سیکریٹری سندھ، وزیر منصوبہ بندی و ترقیات، چیئرمین P&D بورڈ، وزیر ثقافت، سیکریٹری ثقافت اور رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔
ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں شکایت کنندہ نہیں بلکہ **آئین پاکستان کے آرٹیکل 19-A کے تحت عوام کے حقِ معلومات کے تحفظ کے لیے ایک Whistleblower** کے طور پر متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کرا رہا ہے، تاکہ شفافیت، احتساب اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل پاکستان کی جانب سے جاری کردہ مؤقف، خط اور دستیاب معلومات پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کرتا۔ حتمی حقائق تحقیقات، آڈٹ اور متعلقہ اداروں کے باضابطہ نتائج کے بعد سامنے آئیں گے۔


