**کراچی (ایچ آراین ڈبلیو)** – سندھ ہائی کورٹ نے **چار من سے زائد چرس اور 20 کلوگرام آئس (منشیات)** برآمدگی کے مقدمے میں نامزد **اسسٹنٹ ایکسائز افسر جاوید رشید** کی درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔
عدالت نے ملزم کو **50 ہزار روپے کے ضمانتی مچلکے** جمع کروانے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ مچلکے جمع ہونے کے بعد انہیں جیل سے رہا کیا جائے۔
سماعت کے دوران عدالت کے احکامات پر **ایس ایس پی انویسٹی گیشن** بھی پیش ہوئے۔ عدالت نے مقدمے کی تفتیش اور چالان میں موجود مبینہ نقائص پر برہمی کا اظہار کیا۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ مقدمے اور چالان میں **دو مختلف گاڑیوں کے نمبر** درج کیے گئے ہیں، جبکہ گاڑی کے اصل مالک کو مقدمے میں نامزد بھی نہیں کیا گیا۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جن پولیس اہلکاروں کو معطل کیا گیا تھا، ان کے خلاف تاحال محکمانہ کارروائی مکمل نہیں کی گئی۔
دورانِ سماعت ملزم کے وکیل **اسلم بھٹہ ایڈووکیٹ** نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمہ بدنیتی کی بنیاد پر قائم کیا گیا اور اصل ملزمان کو بچانے کے لیے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا۔ وکیلِ صفائی کے مطابق جاوید رشید **دسمبر 2025** سے جیل میں ہیں اور ان کے پورے کیریئر میں کسی بھی قسم کی منفی کارکردگی یا بدعنوانی کا ریکارڈ موجود نہیں۔
عدالت نے دستیاب ریکارڈ اور دلائل کی روشنی میں درخواستِ ضمانت منظور کر لی۔ تاہم مقدمے کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جائے گا۔
انسانی حقوق کے تناظر میں منصفانہ ٹرائل، شفاف تفتیش اور قانون کے مطابق کارروائی ہر ملزم کا بنیادی حق ہے، جبکہ کسی بھی مقدمے میں حتمی ذمہ داری کا تعین صرف عدالت ہی کر سکتی ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر عدالت میں ہونے والی کارروائی اور پیش کیے گئے عدالتی ریکارڈ پر مبنی ہے۔ HRNW (hrnww.com) کسی بھی فریق کے الزامات یا دفاعی مؤقف کی توثیق نہیں کرتا۔ مقدمے کا حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت میں ٹرائل مکمل ہونے کے بعد ہوگا، اور اس وقت تک تمام ملزمان قانون کے مطابق بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔


