**کراچی (HRNW)** – کراچی کے علاقے **پریڈی کوارٹر، ایم اے جناح روڈ، صدر ٹاؤن، ضلع جنوبی** میں واقع **پلاٹ نمبر PR-1/37/12**، جو ایک ہیریٹیج (تاریخی) عمارت قرار دیا جاتا ہے، پر مبینہ طور پر ضوابط کے خلاف تجارتی تعمیرات جاری ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مذکورہ مقام پر **بینک الفلاح** کی برانچ کے لیے مبینہ طور پر غیر قانونی تعمیراتی کام دن رات جاری ہے۔ مزید الزام عائد کیا گیا ہے کہ محکمہ اوقاف و آثارِ قدیمہ کی جانب سے جاری کیے گئے **شوکاز نوٹس** کے باوجود تعمیراتی سرگرمیاں نہیں روکی گئیں۔
رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ تعمیرات کے دوران **سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA)** کے مروجہ قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔ بعض شکایت کنندگان نے **ڈائریکٹر ضلع جنوبی نیاز لغاری** پر بھی مبینہ سرپرستی کا الزام عائد کیا ہے، تاہم ان الزامات کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی۔
سماجی اور سیاسی حلقوں کے نمائندوں نے **ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ، اور چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ** سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں، اگر خلاف ورزیاں ثابت ہوں تو تعمیراتی کام فوری طور پر رکوایا جائے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔
تاریخی ورثے کے تحفظ کے ماہرین کے مطابق ہیریٹیج عمارتوں میں کسی بھی قسم کی تعمیر، تبدیلی یا تجارتی استعمال متعلقہ قوانین اور مجاز اداروں کی منظوری سے مشروط ہوتا ہے، تاکہ تاریخی ورثے کی اصل حیثیت محفوظ رہ سکے۔
**HRNW** نے اس معاملے پر متعلقہ اداروں اور نامزد افراد کا مؤقف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ خبر میں شامل تمام الزامات شکایت کنندگان اور رپورٹ میں دی گئی معلومات پر مبنی ہیں، جن کی حتمی تصدیق صرف متعلقہ حکام کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ممکن ہوگی۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی فرد، ادارے یا تنظیم کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ اس خبر میں شامل الزامات شکایت کنندگان کی جانب سے سامنے آنے والی معلومات پر مبنی ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، شفافیت اور عوامی مفاد کے پیش نظر شائع کر رہا ہے۔ حتمی ذمہ داری یا خلاف ورزی کا تعین صرف مجاز اداروں کی تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد ہی کیا جا سکتا ہے۔


