**مظفرآباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – مسلم لیگ (ن) کے جلسے میں وزیراعلیٰ پنجاب **مریم نواز شریف** کی جانب سے مبینہ طور پر ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات پر الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق جلسے کے دوران سابق وزیراعظم **نواز شریف** اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی جانب سے مختلف منصوبوں کا اعلان کیا گیا، جن میں **گرین بس سروس، طلبہ کے لیے اسکالرشپس، نوجوانوں میں لیپ ٹاپ کی تقسیم، آسان قرضوں کی فراہمی، “اپنا گھر” اسکیم اور “صاف ستھرا مظفرآباد” پروگرام** شامل ہیں۔
اعتراض کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی **شق نمبر 41** کے تحت انتخابات کا شیڈول جاری ہونے کے بعد کوئی امیدوار یا سیاسی جماعت ووٹرز کو متاثر کرنے کے لیے نئے ترقیاتی منصوبوں کا اعلان نہیں کر سکتی۔
ان کا کہنا ہے کہ انتخابی شیڈول کے بعد ترقیاتی منصوبوں کے اعلانات انتخابی عمل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں اور یہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
تاہم، اس معاملے پر الیکشن کمیشن آزاد کشمیر یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی حتمی فیصلہ یا باضابطہ کارروائی سامنے نہیں آئی۔ کسی بھی خلاف ورزی کا تعین متعلقہ اداروں کی تحقیقات اور قانونی عمل کے بعد کیا جائے گا۔
انسانی حقوق اور جمہوری عمل کے تناظر میں آزاد، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کا انتخابی قوانین اور ضابطہ اخلاق کی پاسداری کرنا ضروری ہے تاکہ ووٹرز کو مساوی معلومات اور غیر جانبدار انتخابی ماحول فراہم کیا جا سکے۔
HRNW اس معاملے کو انتخابی شفافیت، جمہوری اقدار اور عوامی آگاہی کے تناظر میں رپورٹ کر رہا ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی سیاسی جماعت، امیدوار، الیکشن کمیشن یا کسی دوسرے فریق کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، جمہوری عمل، انسانی حقوق اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں بیان کردہ الزامات کی حتمی تصدیق متعلقہ الیکشن کمیشن یا مجاز اداروں کی تحقیقات اور قانونی کارروائی کے بعد ہی ہو سکے گی۔


