**اسلام آباد (ایچ آراین ڈبلیو)** – اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی بھرتیوں کے لیے منعقدہ امتحانات کے نتائج جاری کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔
یہ حکم **جسٹس اعظم خان** نے شہری **یاسر عرفات** کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران جاری کیا۔
درخواست گزار کے وکیل **افراسیاب احمد رانا ایڈووکیٹ** نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ایف آئی اے نے بھرتیوں کے لیے امیدواروں سے ایسا امتحان لیا جو مقررہ نصاب سے ہٹ کر تھا، جس کے باعث امیدواروں کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مبینہ بے ضابطگی کے حوالے سے ایف آئی اے کو ایک تحریری درخواست بھی ارسال کی گئی تھی، تاہم مسئلہ حل نہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا گیا۔
دلائل سننے کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس کے حتمی فیصلے تک **ایف آئی اے کو امتحانی نتائج جاری کرنے سے عارضی طور پر روک دیا**۔
عدالت کی جانب سے اس مرحلے پر صرف عبوری حکم جاری کیا گیا ہے، جبکہ درخواست میں اٹھائے گئے الزامات پر حتمی فیصلہ آئندہ عدالتی کارروائی اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
انسانی حقوق اور شفاف طرزِ حکمرانی کے تناظر میں سرکاری ملازمتوں میں شفاف، منصفانہ اور میرٹ پر مبنی بھرتی کا عمل ہر امیدوار کے مساوی مواقع اور انصاف کے حق سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے معاملات میں عدالتی نگرانی عوامی اعتماد اور قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
HRNW اس عدالتی پیش رفت کو میرٹ، شفافیت، مساوی مواقع اور انصاف تک رسائی کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی عدالت، سرکاری ادارے یا فریق کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل نکات عدالتی کارروائی پر مبنی ہیں، جبکہ درخواست میں عائد الزامات پر حتمی فیصلہ متعلقہ عدالت شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کرے گی۔


