**کراچی (HRNW)** – ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس نے دو سالہ **آذان علی خان کے اغواء اور تاوان کیس** کو حل کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے مرکزی ملزم سمیت تین ملزمان کو گرفتار کرنے اور بچے کو بحفاظت بازیاب کرانے کا اعلان کیا ہے۔
ایس ایس پی ویسٹ طارق الٰہی مستوئی کے مطابق پولیس نے ٹیکنیکل معلومات، مسلسل تحقیقات اور مختلف کارروائیوں کے بعد کراچی اور گھارو کے قریب کارروائیاں کرتے ہوئے مقدمے میں ملوث تین ملزمان کو گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان میں:
1. **محمد احتشام ولد عمران خان** (مرکزی ملزم اور مغوی بچے کے والد کا دوست)
2. **عبدالوہاب ولد محمد اشفاق** (مرکزی ملزم کا سالہ)
3. **افتخار احمد ولد عبدالکریم** (گھارو میں مبینہ سہولت کار)
شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق دو سالہ آذان علی خان کو **18 جولائی 2026** کو منگھوپیر کی ایک نجی رہائشی سوسائٹی سے اغواء کیا گیا تھا، جس کا مقدمہ والد کی مدعیت میں تھانہ منگھوپیر میں دفعہ **364-A تعزیرات پاکستان** اور **پریوینشن آف ٹریفکنگ اِن پرسنز ایکٹ 2018** کی متعلقہ دفعات کے تحت درج کیا گیا۔
پولیس کے مطابق اغواء کے بعد بیرونِ ملک کے ایک واٹس ایپ نمبر سے بچے کی رہائی کے لیے **50 لاکھ روپے تاوان** کا مطالبہ کیا گیا۔
ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق تحقیقات میں سامنے آیا کہ مغوی بچے کے والد کے دوست محمد احتشام نے مبینہ طور پر مالی لالچ میں آکر اپنے سالے عبدالوہاب اور گھارو میں موجود افتخار احمد کی مدد سے اغواء کی منصوبہ بندی کی۔
پولیس کے مطابق مرکزی ملزم نے واردات سے قبل مبینہ طور پر جعلی نمبر پلیٹ تیار کروائی، موٹرسائیکل اور دیگر سامان حاصل کیا، جبکہ سی سی ٹی وی فوٹیج اور تکنیکی شواہد کی مدد سے ملزم کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا گیا۔
پولیس کے مطابق بچے کو اغواء کرنے کے بعد اسے مختلف مقامات سے منتقل کرتے ہوئے گھارو کے قریب لے جایا گیا، جہاں اسے مبینہ طور پر تیسرے ملزم افتخار احمد کے پاس رکھا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مرکزی ملزم واردات کے دوران متاثرہ خاندان کے ساتھ رابطے میں رہا اور خود کو بچے کی تلاش میں مددگار ظاہر کرتا رہا۔
ایس ایس پی ویسٹ کے مطابق پولیس کی کارروائیوں اور تکنیکی تحقیقات کے نتیجے میں ملزمان پر دباؤ بڑھا، جس کے بعد بچے کی موجودگی سے متعلق معلومات سامنے آئیں۔ پولیس ٹیم نے گھارو کے قریب کارروائی کرتے ہوئے بچے کو بحفاظت بازیاب کرایا۔
پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر مبینہ طور پر واردات میں استعمال ہونے والی موٹرسائیکل، ہیلمٹ، جعلی نمبر پلیٹ اور دیگر سامان بھی برآمد کیا گیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تمام گرفتار ملزمان نے دورانِ تفتیش واردات میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا، جبکہ ان معلومات کی تکنیکی شواہد اور لوکیشن ڈیٹا کے ذریعے تصدیق کی گئی۔
انسانی حقوق کے تناظر میں بچوں کا تحفظ، اغواء اور استحصال کے خلاف مؤثر کارروائی، متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہمی اور قانون کے مطابق شفاف تحقیقات انتہائی اہم ہیں۔ کسی بھی ملزم کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ عدالتی کارروائی اور شواہد کی بنیاد پر کیا جائے گا۔
HRNW اس واقعے کو بچوں کے حقوق، شہری تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی فرد، ادارے یا مقدمے کے فریق کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق کے فروغ اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل الزامات اور پولیس کے دعوے متعلقہ حکام کے بیانات اور تفتیشی معلومات پر مبنی ہیں، جبکہ کسی بھی ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔


