**کراچی (ایچ اراین ڈبلیو)** – ملیر کورٹ میں **لانڈھی قائد آباد میں تین سالہ بچی کلثوم کے قتل کے مقدمے** میں گرفتار ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے ملزمان کو مزید تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا۔
عدالت نے گرفتار ملزمان **سکینہ اور نادر** کو **4 روزہ جسمانی ریمانڈ** پر پولیس تحویل میں دینے کا حکم دیا۔
سماعت کے موقع پر مقتولہ بچی کے اہلخانہ بھی عدالت میں موجود تھے۔ دورانِ سماعت ملزمان سکینہ اور نادر مبینہ طور پر رو کر معافیاں مانگتے رہے اور مقتولہ بچی کے والد سے معافی کی درخواست کرتے رہے۔
تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمہ سکینہ مقتولہ بچی کی چچی ہے، جبکہ ملزم نادر ملزمہ سکینہ کا بھائی ہے۔
تفتیشی افسر کے مطابق دورانِ تفتیش دونوں ملزمان نے مبینہ طور پر قتل کا اعتراف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزمہ نے مبینہ طور پر بچی کو قتل کرنے کے بعد لاش ٹھکانے لگانے کے لیے ملزم نادر کی مدد حاصل کی۔
پولیس کے مطابق ملزمہ نے مبینہ طور پر **23 جون** کو تین سالہ بچی کو قتل کیا، جبکہ لاش کو آٹے کی بوری میں ڈال کر گھر کے دروازے پر رکھا گیا تھا۔
انسانی حقوق کے تناظر میں بچوں کے خلاف جرائم انتہائی سنگین نوعیت کے ہوتے ہیں، جن میں شفاف تحقیقات، متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی، بچوں کے تحفظ کے مؤثر اقدامات اور قانون کے مطابق کارروائی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ کسی بھی ملزم کے خلاف الزامات کا حتمی فیصلہ عدالت میں شواہد اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد کیا جاتا ہے۔
HRNW اس کیس کو بچوں کے حقوق، انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی کے تناظر میں عوامی آگاہی کے لیے رپورٹ کر رہا ہے۔
🤝 **دنیا کی نمبر 1 ہیومن رائٹس نیوز ایجنسی HRNW کو سپورٹ کریں**
👉 [https://www.hrnww.com/?page_id=1083](https://www.hrnww.com/?page_id=1083)
⚠️ **اہم ہدایت (Important Note)**
یہ خبر HRNW (hrnww.com) سے منسلک کسی فرد، ادارے یا مقدمے کے فریق کے مؤقف کی نمائندگی نہیں کرتی۔ HRNW یہ معلومات صرف عوامی آگاہی، انسانی حقوق کے فروغ اور معلومات کی فراہمی کے مقصد سے شائع کرتا ہے۔ خبر میں شامل الزامات اور پولیس کے بیانات تفتیشی معلومات پر مبنی ہیں، جبکہ کسی بھی ملزم کے جرم یا بے گناہی کا حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔


